
نئی دہلی، 16 اپریل (ہ س) دہلی بی جے پی کے صدر وریندر سچدیوا نے پارلیمنٹ کے تین روزہ خصوصی اجلاس کے پہلے دن لوک سبھا میں خواتین کے ریزرویشن سے متعلق تین بلوں کے پیش کئے جانے کو ایک تاریخی قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 16 اپریل ہندوستان کی تاریخ میں ایک سنہرے دن کے طور پر درج کیا جائے گا۔
آئین (131 ویں ترمیم) بل، 2026، حد بندی بل، 2026 اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے قوانین (ترمیمی) بل پر بات کرتے ہوئے سچدیوا نے کہا کہ ملک کو 1947 میں آزادی ملی اور اب وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں خواتین کو پالیسی سازی میں حصہ لینے کا حق مل رہا ہے۔
سچدیوا نے کہا کہ 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد وزیر اعظم مودی نے خواتین کے احترام اور بااختیار بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے، جن میں دیہی علاقوں میں بیت الخلا کی تعمیر اور خود روزگار کی اسکیمیں شامل ہیں۔ اب پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن نافذ کرکے خواتین کی شرکت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس تاریخی بل کو روکنے کی کوشش قابل مذمت ہے۔ کانگریس، سوشلسٹ پارٹیوں اور دیگر اتحادیوں نے طویل عرصے سے خواتین کو مناسب سیاسی نمائندگی دینے سے انکار کیا تھا۔
دہلی بی جے پی کے صدر نے عام آدمی پارٹی پر بھی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں ناری شکتی وندن ایکٹ کی مخالفت کر کے پارٹی نے اپنا خواتین مخالف چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اروند کیجریوال کی قیادت والی پارٹی خواتین کو بااختیار بنانے میں سنجیدہ نہیں ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی