
حیدرآباد ، 16 اپریل (ہ س) ۔
تلنگانہ جاگرتی پارٹی کی صدرکلواکنتلا کویتا نے جمعرات کوالزام لگایا کہ مجوزہ حلقہ بندی (ڈیلمیٹیشن) بل کوخواتین ریزرویشن بل کے ساتھ جوڑنا مرکز کی ایک بڑی سازش ہے۔ انہوں نے خبردارکیا کہ تلنگانہ کی سیاسی نمائندگی کو کم کرنے والا کوئی بھی قدم ریاست میں ایک اورعوامی تحریک کو جنم دے سکتا ہے۔ بنجارہ ہلزمیں واقع تلنگانہ جاگروتی دفتر سے جاری ایک بیان میں کویتا نے کہا کہ اگرچہ پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل پربحث خواتین کے لیے ایک اہم موقع ہے، لیکن اسے حلقہ بندی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش گمراہ کن اور سیاسی محرکات پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ریزرویشن بل اور حلقہ بندی دو الگ الگ مسائل ہیں۔ انہوں نے مرکز پر الزام لگایا کہ وہ حلقہ بندی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے خواتین کو ڈھال کے طور پر استعمال کررہا ہے۔کویتا نے پارلیمانی حلقوں کی تعداد میں50 فیصد تک اضافے کی تجویز پرتشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ بظاہر منصفانہ لگتا ہے، لیکن اس کا تلنگانہ پرمنفی اثرپڑسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار جیسے ریاستوں کے مقابلے میں تلنگانہ کی نشستوں کا حصہ غیر متناسب طور پر کم ہو سکتا ہے، جس سے اس کی سیاسی اہمیت گھٹ جائے گی۔ جاگروتی لیڈر نے زور دیا کہ اس وقت پارلیمنٹ میں تلنگانہ کی نمائندگی 3.13 فیصد ہے اور یہ یقینی بنایا جانا چاہیے کہ حلقہ بندی کے بعد بھی یہ تناسب برقرار رہے، چاہے کوئی بھی معیار اپنایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا،اگر تلنگانہ کی سیاسی اہمیت کم کی گئی تو ریاست کے قیام جیسی ایک اور تحریک ناگزیر ہو جائے گی۔
۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق