سی اے جی رپورٹ میں جموں یونیورسٹی میں سنگین خامیوں کا انکشاف ہوا
سی اے جی رپورٹ میں جموں یونیورسٹی میں سنگین خامیوں کا انکشاف ہوا جموں، 16 اپریل (ہ س)۔ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی رپورٹ میں جموں یونیورسٹی کے تعلیمی و انتظامی نظام میں متعدد سنگین خامیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی میں ک
سی اے جی رپورٹ میں جموں یونیورسٹی میں سنگین خامیوں کا انکشاف ہوا


سی اے جی رپورٹ میں جموں یونیورسٹی میں سنگین خامیوں کا انکشاف ہوا

جموں، 16 اپریل (ہ س)۔ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی رپورٹ میں جموں یونیورسٹی کے تعلیمی و انتظامی نظام میں متعدد سنگین خامیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی میں کئی تکنیکی کورسز لازمی منظوری کے بغیر چلائے جا رہے ہیں جبکہ پلیسمنٹ، صنعتی روابط اور امتحانی نظام میں بھی نمایاں کمزوریاں پائی گئی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یونیورسٹی نے آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن سے صرف ایم بی اے اور ایم سی اے کورسز کے لیے منظوری حاصل کی، جبکہ چار دیگر تکنیکی کورسز بغیر اجازت کے چلائے جا رہے تھے۔

اس کے علاوہ ایم سی اے پروگرام کو نیشنل بورڈ آف ایکریڈیشن کی منظوری بھی حاصل نہیں تھی۔ سی اے جی نے مزید کہا کہ یونیورسٹی نے یو جی سی کے رہنما اصولوں کی مکمل پاسداری نہیں کی اور بعض کورسز کے نام اور ڈھانچے مقررہ معیار کے مطابق نہیں تھے۔ ٹیچر ایجوکیشن پروگرام بھی نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن کی منظوری کے بغیر چلائے جا رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی کا صنعتی شعبے سے رابطہ کمزور ہے اور 26 مفاہمتی یادداشتوں میں سے صرف دو ہی فعال ہیں۔ سال 2017 سے 2022 کے دوران پیشہ ورانہ کورسز کے ایک ہزار سے زائد طلبہ میں سے صرف 224 کو ملازمت ملی، جبکہ عام کورسز کے طلبہ کے لیے پلیسمنٹ کی سہولت تقریباً نہ ہونے کے برابر رہی۔ امتحانی نظام میں بھی سنگین خامیاں سامنے آئیں، جن میں مارک شیٹس میں غلطیاں، جوابی کاپیوں کی غلط جانچ اور نظرثانی میں تاخیر شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 27 فیصد طلبہ کے نتائج ری ایویلیوایشن کے بعد تبدیل ہوئے، جو نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

پی ایچ ڈی مقالوں کی جانچ میں بھی تاخیر پائی گئی، جہاں صرف 22 فیصد تھیسز مقررہ مدت میں مکمل ہو سکیں جبکہ بعض کیسز میں چار سال سے زائد تاخیر ہوئی۔ متعدد امتحانی پرچوں میں نصاب سے باہر سوالات پوچھے گئے، جس کے باعث دوبارہ امتحانات لینے پڑے۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ یونیورسٹی سے منسلک 82 فیصد کالج نیک (این اے اے سی) سے منظور شدہ نہیں ہیں اور کئی کالج برسوں سے عارضی منظوری پر چل رہے ہیں۔ سی اے جی نے یونیورسٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے نظام کو بہتر بنائے اور تعلیمی معیار کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کرے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande