پالی میں ٹیکسٹائل فیکٹری میں خوفناک آگ، پوری رات ریسکیو آپریشن جاری رہا
پالی میں ٹیکسٹائل فیکٹری میں خوفناک آگ، پوری رات ریسکیو آپریشن جاری رہا پالی، 15 اپریل (ہ س)۔ منڈیا روڈ پر واقع آگم ٹیکسٹائل فیکٹری میں منگل کی رات اچانک خوفناک آگ لگنے سے افراتفری مچ گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے خوفناک شکل اختیار کر لی اور فی
آگ بجھاتے ہوئے فائر فائٹرز


پالی میں ٹیکسٹائل فیکٹری میں خوفناک آگ، پوری رات ریسکیو آپریشن جاری رہا

پالی، 15 اپریل (ہ س)۔ منڈیا روڈ پر واقع آگم ٹیکسٹائل فیکٹری میں منگل کی رات اچانک خوفناک آگ لگنے سے افراتفری مچ گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے خوفناک شکل اختیار کر لی اور فیکٹری کے گودام میں رکھے کپڑوں کے ہزاروں تھانوں کو اپنی زد میں لے لیا۔ اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ موقع پر پہنچا اور آگ بجھانے کی مہم شروع کی گئی۔ آگ اتنی شدید تھی کہ اسے قابو کرنے میں پوری رات لگ گئی۔ پالی اور سوجت سٹی سے کل 7 فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچیں، جنہوں نے رات ساڑھے نو بجے سے صبح تقریباً چار بجے تک مسلسل کوششیں کیں۔ اس دوران فائر فائٹرز نے تقریباً 54 پھیرے لگائے، تب جا کر آگ پر قابو پایا جا سکا۔

فائر آفیسر رام لال گہلوت کے مطابق آگ فیکٹری کے نمبر 221-220 فولڈنگ ہال سے شروع ہوئی، جو آہستہ آہستہ پوری فیکٹری میں پھیل گئی۔ فیکٹری میں رکھے تقریباً 7 سے 8 ہزار کپڑے کے تھان آگ کی زد میں آ گئے اور جل کر خاک ہو گئے۔ آگ لگنے کی وجوہات کا فی الحال انکشاف نہیں ہو سکا ہے اور حادثے کی جانچ جاری ہے۔ معلومات کے مطابق کپڑے کے تھان، خاص طور پر سنتھیٹک کپڑے، جلد آگ پکڑ لیتے ہیں۔ یہ کپڑا پیٹرو کیمیکل سے بنا ہونے کی وجہ سے آگ لگنے پر تیزی سے پگھلتا ہے اور اس کے پھیلاو کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ کچھ تھان سوتی کپڑے کے بھی تھے، لیکن زیادہ تر مواد نے آگ کو بھڑکانے میں کردار ادا کیا۔

آگ بجھانے کے دوران آس پاس کی فیکٹریوں سے بھی پانی کا انتظام کیا گیا اور مقامی لوگوں نے بھی امدادی کاموں میں تعاون کیا۔ فائر فائٹرز کی ٹیم نے پوری رات مورچہ سنبھالے رکھا، جس میں کمل کشور، راہل، پارس گہلوت، ڈمپل، اشوک، مہندر، رمیش، آشیش، سومیر چودھری اور امرت آدیوال سمیت دیگر ملازمین شامل رہے۔ اس خوفناک آگ سے فیکٹری کو بھاری نقصان ہوا ہے، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande