
بھوپال، 15 اپریل (ہ س)۔ ہندوستان کی ریاست مدھیہ پردیش میں کسانوں سے منسلک ایک سنگین مسئلے کو اٹھاتے ہوئے جیتو پٹواری نے ’ای-اوپارجن پورٹل‘ میں مبینہ تکنیکی خامیوں کو لے کر حکومت پر تیکھا حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’سیٹلائٹ تصدیق‘ میں ہونے والی بڑی غلطیوں کی وجہ سے ہزاروں کسان معاشی بحران کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔
مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر جیتو پٹواری نے بدھ کے روز وزیراعلیٰ کو لکھے گئے خط میں الزام لگایا کہ یہ معاملہ محض انتظامی چوک نہیں بلکہ حکومت کی ’’کسان دوست‘‘ پالیسیوں کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔ انہوں نے حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاست کے کئی اضلاع سے حیران کن معلومات سامنے آ رہی ہیں۔ خاص طور پر ودیشہ ضلع کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہاں 6,437 کسانوں کا ’سیٹلائٹ سروے‘ فیل دکھایا گیا ہے، جبکہ حقیقت میں کسانوں نے گیہوں، چنا اور مسور کی فصل بوئی ہے۔ پورٹل پر غلط معلومات درج ہونے سے یہ کسان خریداری کے عمل سے باہر ہو گئے ہیں۔
پٹواری نے کہا کہ ’سلاٹ بکنگ‘ کے دوران کسانوں کو ’’سیٹلائٹ کے ذریعے غیر تصدیق شدہ‘‘ کا پیغام دکھا کر ان کی پیداوار بیچنے سے روکا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر چھوٹے اور غریب کسانوں کے لیے بے حد تشویشناک ہے، جن کی روزی روٹی کا مکمل انحصار کھیتی باڑی پر ہے۔ انہوں نے کسانوں کی موجودہ حالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کئی خاندانوں میں شادی بیاہ کے اخراجات رکے ہوئے ہیں، بچوں کی فیس نہیں بھر پا رہے ہیں اور بینک و ساہوکاروں کے قرض چکانا مشکل ہو گیا ہے۔ ایسے میں سسٹم کی خامی کا بوجھ کسانوں پر ڈالنا ناانصافی ہے۔
حکومت پر حملہ تیز کرتے ہوئے پٹواری نے سوال اٹھایا کہ کیا یہی ’’زرعی بہبود کے سال‘‘ کی سچائی ہے، جہاں پہلے خریداری میں تاخیر اور اب تکنیکی رکاوٹوں کے ذریعے کسانوں کو ان کی پیداوار فروخت کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ڈیجیٹل نظام کے نام پر کسانوں کو پریشان کیا جا رہا ہے اور حکومت زمینی حقیقت سے دور ہے۔
پٹواری نے وزیراعلیٰ سے اس بحران کے فوری حل کا مطالبہ کرتے ہوئے پانچ اہم مشورے بھی پیش کیے:
٭ متاثرہ کسانوں کی فوری دستی تصدیق (مینول ویریفیکیشن) کر کے انہیں خریداری میں شامل کیا جائے۔
٭ ’سیٹلائٹ سروے‘ کی غلطیوں کی اعلیٰ سطحی جانچ کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہو۔
٭ جن کسانوں کی رجسٹریشن یا سلاٹ منسوخ ہوئے ہیں، انہیں دوبارہ موقع دیا جائے۔
٭ خریداری کے عمل کو سادہ بنا کر تکنیکی رکاوٹیں دور کی جائیں۔
٭ کسانوں کو ہونے والے مالی نقصان کا معاوضہ دیا جائے۔
انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر حکومت نے جلد کارروائی نہیں کی، تو کانگریس کسانوں کے مفاد میں وسیع پیمانے پر تحریک چلانے کے لیے مجبور ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن