
نئی دہلی، 15 اپریل (ہ س)۔ بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں آج مسلسل دوسرے روز کمی کا رجحان دیکھا گیا جس کی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کی امید ہے۔ آج کے کاروبار کا آغاز بھی کمی کے ساتھ ہوا۔ کاروبار کے آغاز کے بعد برینٹ کروڈ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ کی قیمتوں میں مزید کمی ہوئی۔ ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 86.96 ڈالر فی بیرل کی سطح پر گر گیا۔ تاہم، بعد میں اس کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں فی الحال خام تیل محدود رینج میں ٹریڈ ہوتا نظر آرہا ہے۔
برینٹ خام تیل آج کمزور کھلا، 94.45 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ ٹریڈنگ کے دوران یہ 93.96 ڈالر فی بیرل تک گر گیا۔ تاہم، اس کی قیمت تھوڑی دیر بعد دوبارہ بڑھ گئی، فی بیرل ڈالر95.78 تک بڑھ گئی۔ ہندوستانی وقت کے مطابق صبح 11 بجے، برینٹ خام تیل 95.69 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل نے بھی آج کمزور کارکردگی کا مظاہرہ کیا، دن کا آغاز ڈالر90.92 فی بیرل پر ہوا۔ تھوڑے ہی عرصے میں ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 86.96 ڈالر فی بیرل تک گر گیا۔ اس کمی کے بعد، ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمتیں بحال ہونا شروع ہوئیں، فی بیرل ڈالر92.38 تک بڑھ گئیں۔ ہندوستانی وقت کے مطابق صبح 11 بجے ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 91.67 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو ایران کے ساتھ جلد مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس بیان سے مغربی ایشیا میں کشیدگی میں کمی اور بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی معمول کی سپلائی میں واپسی کی امید پیدا ہوئی ہے۔ نتیجتاً گزشتہ دو دنوں کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً آٹھ فیصد کی کمی ہوئی ہے۔
مغربی ایشیا میں جنگ چھڑنے سے تیل کی عالمی منڈی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں اس سے پہلے کبھی خام تیل اور پٹرول جیسی پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی میں اتنی شدید رکاوٹ نہیں آئی۔ سپلائی کی یہ کمی دنیا بھر میں فزیکل خام اور پٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنی ہے، جو ان مصنوعات کو درآمد کرنے والے ممالک کی معیشتوں پر نمایاں دباو¿ ڈال رہی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے بھی رواں سال تیل کی کھپت میں کمی کی پیش گوئی کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کھپت میں کمی سے عالمی شرح نمو پر منفی اثر پڑے گا۔ خاص طور پر، ہندوستان جیسے ممالک کی جی ڈی پی کی شرح نمو متاثر ہوسکتی ہے، جو اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی