
کولکاتا، 12 اپریل (ہ س)۔ مغربی بنگال میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے مبینہ منی لانڈرنگ اور مجرمانہ نیٹ ورک سے منسلک معاملے میں جانچ تیز کرتے ہوئے ایک سینئر آئی پی ایس افسر اور ایک کاروباری کو طلب کیا ہے۔ یہ کارروائی بسوجیت پودار عرف ’سونا پپو‘ سے جڑے معاملے میں کی گئی ہے، جو فی الحال مفرور بتایا جا رہا ہے۔
ای ڈی کے ایک سینئر افسر کے مطابق، آئی پی ایس افسر گورو لال اور کاروباری جوئے کامدار کو پوچھ گچھ کے لیے سمن جاری کیا گیا ہے۔ گورو لال ماضی میں کولکاتا پولیس میں ڈپٹی کمشنر رہ چکے ہیں اور حال ہی میں ہاوڑہ پولیس میں تعینات ہیں۔ تاہم اس معاملے میں ان کا کردار ابھی واضح نہیں ہے۔
جانچ ایجنسی نے یکم اپریل کو کولکاتا کے قصبہ اور بالی گنج علاقے میں واقع سونا پپو کے ٹھکانوں سمیت کل آٹھ مقامات پر چھاپہ ماری کی تھی۔ اسی دن جوئے کامدار کی رہائش گاہ پر بھی تلاشی لی گئی، جہاں سے بڑی مقدار میں نقدی برآمد ہوئی تھی۔
ای ڈی کے مطابق، چھاپہ ماری کے دوران تقریباً 1 کروڑ 47 لاکھ روپے نقد ضبط کیے گئے، جبکہ 67 لاکھ 64 ہزار روپے کے سونے چاندی کے زیورات بھی برآمد ہوئے۔ اس کے علاوہ سونا پپو کے استعمال میں رہنے والی ایک فارچیونر گاڑی کو بھی ضبط کر لیا گیا۔ تلاشی کے دوران ’میڈ ان یو ایس اے‘ لکھی ہوئی ایک ریوالور بھی برآمد ہوئی، جسے بعد میں پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
جانچ ایجنسی کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال پولیس اور کولکاتا پولیس میں درج کئی ایف آئی آر کی بنیاد پر یہ منی لانڈرنگ کی جانچ شروع کی گئی ہے۔ سونا پپو کے خلاف تعزیرات ہند اور آرمز ایکٹ 1959 کے تحت بھی مقدمات درج ہیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ بالی گنج کے کانکولیا روڈ علاقے میں فائرنگ اور بمباری کے حادثے کے بعد سے ہی پولیس اسے تلاش کر رہی ہے، لیکن اب تک اس کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔ اس پر بھتہ خوری، دھمکی اور کنسٹرکشن سنڈیکیٹ چلانے جیسے سنگین الزامات ہیں۔
ای ڈی نے سونا پپو کو بھی سمن جاری کیا تھا، لیکن وہ ایجنسی کے سامنے پیش نہیں ہوا۔ اسی دوران اس نے سوشل میڈیا پر لائیو آکر چھاپہ ماری کے دوران اپنی اہلیہ اور بزرگ والد کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا الزام لگایا۔
ذرائع کے مطابق، اس معاملے میں بااثر افراد سے مبینہ تعلقات کے حوالے سے بھی جانچ کی جا رہی ہے، جس سے سیاسی اور انتظامی حلقوں میں ہلچل بڑھ گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن