ٹرمپ کی دھمکی پر چین کی تمام فریقوں سے تحمل کی اپیل، برطانیہ بھی امریکی قدم کے خلاف
بیجنگ/لندن، 13 اپریل (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعہ ایرانی بندرگاہوں پر فوجی گھیرا بندی کرنے کی دھمکی کے بعد چین نے تمام فریقوں سے تحمل کی اپیل کی ہے۔ برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ فوجی ناکہ بندی کے خلاف ہے اور وہ اس کی حمایت نہیں کرے گا۔ ٹرمپ کے
Hormuz-Iran-USA-China-UK


بیجنگ/لندن، 13 اپریل (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعہ ایرانی بندرگاہوں پر فوجی گھیرا بندی کرنے کی دھمکی کے بعد چین نے تمام فریقوں سے تحمل کی اپیل کی ہے۔ برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ فوجی ناکہ بندی کے خلاف ہے اور وہ اس کی حمایت نہیں کرے گا۔ ٹرمپ کے بیان سے آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں شدت پیدا ہو گئی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گوو جیاکون نے کہا کہ اس اہم آبی گزرگاہ کو محفوظ، مستحکم اور بلا روک ٹوک رکھنا عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ چین توانائی کے تحفظ اور فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

اس معاملے پر برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمرکا بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواہ کتنا ہی دباو¿ کیوں نہ ہو، برطانیہ کو ایران کی جنگ میں نہیں گھسیٹا جا سکتا اور وہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی حمایت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا، ”میری رائے میں اس آبی گزرگاہ کو مکمل طور پر کھلا رکھنا بہت ضروری ہے۔ اس سمت میں ہم کچھ عرصے سے کوشاں بھی ہیں۔“

ٹرمپ کی دھمکی کے بعد ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب نے امریکی جنگی جہازوں کو علاقے سے دور رہنے کی حتمی وارننگ دی ہے ۔ ہندوستان کے تیل اور گیس کا ایک بڑا حصہ اس آبی گزرگاہ سے آتا ہے۔ ایران نے حال ہی ہندوستان، چین، روس، عراق اور پاکستان کے جہازوں کو اس راستے سے گزرنے کی اجازت دینے کا اعلان کر چکا ہے ۔

قابل ذکر ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم اور اسٹریٹجک تیل کی ترسیل کا آبی گزرگاہ ہے۔ یہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی محاذ آرائی اور ناکہ بندی کے خطرے کی وجہ سے یہ خطہ عالمی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔یہ آبی گزرگاہ شمال میں ایران اور جنوب میں عمان (جزیرہ نما مسندم) اور متحدہ عرب امارات کے درمیان واقع ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً 167 کلومیٹر ہے۔

سب سے تنگ پوائنٹپر، اس کی چوڑائی محض 33-39 کلومیٹر (تقریباً 21 میل) ہے۔ دنیا کی سمندری تیل کی تجارت کا تقریباً 25 فیصد اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی ) کا 20 فیصد اسی راستے سے گزرتا ہے۔ ایران، عراق، کویت، قطر، بحرین اور سعودی عرب جیسے ممالک اپنی تیل کی برآمدات کے لیے خاص طور پر اس آبی گزرگاہ پر بہت زیادہ منحصر ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande