
ارریہ، 12 اپریل (ہ س)۔ بہار میں پولیس اور قانون کا اقبال ختم ہوگیا ہے۔ امن و امان نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ لینڈ مافیا، ریت مافیا اور ڈرگ مافیا کو حکومت تحفظ فراہم کرتی ہے اور بہار میں اب حکومت نام کی کوئی چیز نہیں رہی۔ پورنیہ کے ایم پی راجیش رنجن عرف پپو یادو نے اتوار کے روز فاربس گنج میں یہ باتیں کہی۔
پپو یادو فاربس گنج میں دوہرے قتل کے سلسلے میں فاربس گنج پہنچے اور فاربس گنج میں مقتول نبی حسین اورروی چوہان کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور انہیں مالی امداد فراہم کی۔ انہوں نے فاربس گنج میں دوہرے قتل پر غم کا اظہار کیا اور غم کی اس گھڑی میں اہل خانہ کے ساتھ تعاون کا اظہار کیا۔
بڑی تعداد میں حامیوں کے ساتھ پہنچتے پورنیہ کے ایم پی پپو یادو نے فاربس گنج میں دوہرے قتل کو شرمناک قرار دیا، جس کی ملک گیر اور بین الاقوامی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ ناقابل معافی ہے۔ انہوںنے معاشرے کو داغدار کیا ہے۔ قانون کا کوئی خوف نہیں۔ بہار میں حکومت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ حکمراں جماعت اور اپوزیشن دونوں بے معنی ہو چکے ہیں۔ حکمراں جماعت وزرائے اعلیٰ کی تقرری کا کھیل کھیل رہی ہے۔ بہار میں روزانہ لڑکیوں کے قتل اور عصمت دری کے واقعات ہو رہے ہیں۔ لڑکیاں کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں چاہے وہ اسکول ہوں یا کالج۔
پورنیہ کے ایم پی نے فاربس گنج میں دوہرے قتل کے پیچھے ڈرائی ڈرگ کی لت کو سب سے بڑی وجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں چرس، بھنگ، افیون، اسمیک، کوریکس وغیرہ کی فروخت کو حکام کے ذریعے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ ان ڈرائی ڈرگ کے کاروبار سے افسران اور لیڈر رقم وصول کرتے ہیں۔ 80فیصد نوجوان نشے کی لت کا شکار ہو چکے ہیں۔ نتیجتاً معاشرہ کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ لڑنے کی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے اور بزدلی بڑھتی جا رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سیمانچل خطہ میں خشک منشیات کی لت کو ختم کرنے کی کوشش فاربس گنج کی سرزمین سے کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan