
پربھنی ، 12 اپریل (ہ س) پربھنی کے دیہی علاقوں، خصوصاً بوری علاقے میں گھریلو گیس سلنڈروں کی شدید قلت کے باعث شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جہاں گیس ایجنسیوں کے باہر صارفین کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں اور بروقت گیس دستیاب نہ ہونے سے عوام میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی سطح پر جاری تنازعات کے اثرات کے باعث ملک میں گیس سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں دیہی علاقوں میں تقریباً 45 دن بعد جبکہ شہری علاقوں میں 25 دن بعد گیس فراہم کی جا رہی ہے۔ صارفین نے شکایت کی ہے کہ گیس بکنگ کے بعد او ٹی پی موصول ہونے کے باوجود انہیں 7 سے 8 دن تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔
دیہی گیس ایجنسیوں کے پاس بڑی تعداد میں صارفین ہونے کے باوجود صرف 400 سے 500 سلنڈر چند دنوں کے وقفے سے فراہم کیے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے طلب اور رسد کے درمیان واضح فرق پیدا ہو گیا ہے اور کئی افراد کو وقت پر گیس حاصل نہیں ہو پا رہی۔
دوسری جانب حکومت کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے عام شہریوں پر مالی بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔ کئی مقامات پر جہاں اصول کے مطابق مفت ہوم ڈیلیوری ہونی چاہیے، وہاں اضافی 30 روپے وصول کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ اس کے علاوہ قلت کے بہانے ہوم ڈیلیوری بند کر کے صارفین کو ایجنسی تک آنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
مزید یہ کہ کچھ خردہ فروش گیس سلنڈر زیادہ قیمت پر فروخت کر رہے ہیں، جس سے صارفین کا معاشی استحصال ہو رہا ہے۔ گیس کی قلت کا اثر دیہی زندگی پر بھی واضح طور پر پڑ رہا ہے، جہاں شادی بیاہ، تہواروں اور مذہبی تقاریب کے لیے گیس دستیاب نہ ہونے کے باعث لوگوں کو لکڑی کے ایندھن کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔
خصوصاً شادیوں کے مواقع پر کھانے کی تیاری میں دلہن کے والدین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ انتظامیہ فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لے، گیس سپلائی کو معمول پر لائے اور بے ضابطگیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے