کھلے کنوؤں کو بند نہ کریں، محفوظ آبی ذرائع کے طور پر بچائیں، ماہرِ ماحولیات ڈاکٹر پرشانت سنکر کی حکومت سے اپیل
ممبئی ، 12 اپریل (ہ س) ریاست میں کھلے کنوؤں سے پیش آنے والے سنگین حادثات کے پیش نظر ماہرِ ماحولیات ڈاکٹر پرشانت رویندر سنکر نے ریاستی حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کراتے ہوئے کہا ہے کہ کنوؤں کو بند کرنے کے بجائے انہیں محفوظ آبی ذرائع کے طور پر برق
Environment Open Wells Safety


ممبئی ، 12 اپریل (ہ س) ریاست میں کھلے کنوؤں سے پیش آنے والے سنگین حادثات کے پیش نظر ماہرِ ماحولیات ڈاکٹر پرشانت رویندر سنکر نے ریاستی حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کراتے ہوئے کہا ہے کہ کنوؤں کو بند کرنے کے بجائے انہیں محفوظ آبی ذرائع کے طور پر برقرار رکھا جائے۔ اس سلسلے میں انہوں نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو ایک اہم بیان پیش کیا ہے جس میں کنوؤں کے تحفظ اور ان کے سائنسی استعمال پر زور دیا گیا ہے۔

حالیہ دنوں میں ڈنڈوری اور کنکرالا علاقوں میں کنوؤں میں گرنے کے واقعات کے بعد ریاست بھر میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ اس پس منظر میں جہاں کنوؤں کو بھرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، وہیں ڈاکٹر سنکر نے واضح کیا کہ ایسا قدم ماحولیات اور آبی نظام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کنویں زیرِ زمین پانی کی سطح کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور مقامی ماحولیاتی نظام کا لازمی حصہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کنوؤں کو بند کیا گیا تو مستقبل میں پانی کی قلت کا مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

اپنے بیان میں ڈاکٹر سنکر نے حکومت سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، جن میں ریاست کے تمام کنوؤں کا ’سیفٹی آڈٹ‘ اور خطرے کا نقشہ تیار کرنا شامل ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ہر کنویں کے اطراف کم از کم چار فٹ بلند حفاظتی دیوار اور لوہے کی جالی نصب کی جائے۔ اس کے علاوہ جنگلاتی علاقوں کے نزدیک موجود کنوؤں میں جنگلی جانوروں کے لیے محفوظ باہر نکلنے کا راستہ (ایسکیپ ریمپ) بھی بنایا جائے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان حفاظتی اقدامات کے لیے منریگا یا ضلع منصوبہ بندی کمیٹی کے فنڈز سے مالی وسائل فراہم کیے جائیں۔ رات کے وقت پیش آنے والے حادثات کی روک تھام کے لیے کنوؤں کے اطراف ریڈیم پٹیاں اور انتباہی بورڈ نصب کرنے کی بھی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر سنکر نے کہا کہ ترقی اور ماحولیات کے درمیان توازن قائم رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق کھلے کنویں اس وقت انسانوں اور جنگلی جانوروں کے لیے ایک غیر مرئی خطرہ بن چکے ہیں، اس لیے ان کی حفاظت کے لیے ایک جامع اور مربوط پالیسی اپنانا ناگزیر ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ریاستی حکومت اس حساس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور جلد ہی ایک سائنسی اور ماحول دوست پالیسی کا اعلان کرے گی۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande