کولکاتا میں 650 کروڑ روپے کے کوئلہ گھٹالے میں پانچ ملزمان کے خلاف فردِ جرم داخل
کولکاتا، 12 اپریل (ہ س)۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے 650 کروڑ روپے کی مبینہ کوئلہ چوری اور وصولی گھٹالے میں پانچ ملزمان کے خلاف کولکاتا کی خصوصی عدالت میں فردِ جرم (چارج شیٹ) داخل کی ہے۔ حکام نے اتوار کی صبح ایک بیان میں یہ معلومات دی ہے۔ انفورسمنٹ ڈ
ای ڈی کی چھاپہ ماری


کولکاتا، 12 اپریل (ہ س)۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے 650 کروڑ روپے کی مبینہ کوئلہ چوری اور وصولی گھٹالے میں پانچ ملزمان کے خلاف کولکاتا کی خصوصی عدالت میں فردِ جرم (چارج شیٹ) داخل کی ہے۔ حکام نے اتوار کی صبح ایک بیان میں یہ معلومات دی ہے۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے کولکاتا علاقائی دفتر کی جانب سے دائر کی گئی فردِ جرم میں چنمے منڈل، کرن خان اور ان کے ساتھیوں کے نام شامل ہیں۔ یہ فردِ جرم منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت خصوصی عدالت میں پیش کی گئی۔

تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق، یہ معاملہ غیر قانونی کوئلہ کان کنی، چوری، غیر قانونی نقل و حمل، غیر قانونی فروخت، فرضی دستاویزات کے استعمال اور بھتہ خوری سے جڑا ایک منظم ریکیٹ ہے۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کوئلے کی ترسیل اور سنڈیکیٹ کے کام کاج کو ہموار رکھنے کے لیے ریاستی حکومت کے کچھ افسران اور مقامی سیاسی عناصر کو رشوت دی جاتی تھی۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے اس معاملے کی تحقیقات 54 ایف آئی آر کی بنیاد پر شروع کیں، جو مغربی بنگال کے درگاپور-آسنسول علاقے کے مختلف تھانوں میں درج کی گئی تھیں۔ یہ شکایتیں ایسٹرن کول فیلڈز لمیٹڈ، سینٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس اور مقامی پولیس کی جانب سے درج کرائی گئی تھیں۔

تحقیقات میں پایا گیا کہ چمنے منڈل اور کرن خان ایک منظم کوئلہ سنڈیکیٹ کا حصہ تھے، جو درگاپور-آسنسول اور آس پاس کے علاقوں میں سرگرم تھا۔ دونوں کو 2 فروری کو منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعہ 19 کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

ایجنسی کے مطابق، سنڈیکیٹ نہ صرف غیر قانونی طریقے سے کوئلے کا کاروبار کر رہا تھا، بلکہ قانونی ڈیلیوری آرڈر ہولڈرز، ٹرانسپورٹرز اور خریداروں سے منظم طریقے سے وصولی بھی کرتا تھا۔ اس وصولی کو ’جی ٹی‘، ’گنڈا ٹیکس‘ یا ’رنگداری ٹیکس‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، جسے لفٹنگ فیس، ہینڈلنگ فیس یا چندے کے طور پر دکھایا جاتا تھا۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ وصولی کی شرح 275 روپے فی ٹن سے لے کر 1500 روپے فی ٹن تک تھی، جو نیلامی میں بکنے والے کوئلے کی اصل قیمت کا 20 سے 25 فیصد تک پہنچ جاتی تھی۔ اس وجہ سے بڑی مقدار میں الاٹ شدہ کوئلہ اٹھایا نہیں جا سکا، جس سے ایسٹرن کول فیلڈز لمیٹڈ کو بھاری مالی نقصان ہوا۔

گزشتہ پانچ سالوں میں صرف اس غیر قانونی وصولی کے ذریعے حاصل کی گئی رقم (پروسیڈز آف کرائم) 650 کروڑ روپے سے زیادہ بتائی گئی ہے۔

تحقیقات کے دوران مختلف مقامات پر چھاپہ ماری کی گئی، جس میں کئی قابلِ اعتراض دستاویزات، ڈیجیٹل آلات، واٹس ایپ چیٹ، کوئلہ اٹھانے کے ریکارڈ، وصولی سے منسلک دستاویزات اور بینک کھاتوں کی تفصیلات ضبط کی گئیں۔

21 نومبر 2025 اور 3 فروری 2026 کو کی گئی چھاپہ ماری میں تقریباً 17.57 کروڑ روپے کی نقدی، بینک ڈپازٹ اور دیگر قیمتی اثاثے برآمد کیے گئے۔ اس کے علاوہ ملزمان کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں کوئلہ اور کوک بھی ضبط کیا گیا۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے مطابق، ملزمان غیر قانونی رقم کو قانونی دکھانے کے لیے کئی فرضی کمپنیوں اور سنگل پروپرائٹر شپ فرموں کا استعمال کر رہے تھے۔ بینک کھاتوں کے تجزیے میں بھاری نقد رقم جمع کروانے اور آپس میں جڑے افراد اور اداروں کے درمیان بڑے پیمانے پر لین دین کا انکشاف ہوا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande