مہاراشٹر میں طلبہ کی حفاظت کے لیے اسکولی ٹرانسپورٹ قوانین کے سختی سے نفاذ کے اقدامات
ممبئی ، 11 اپریل (ہ س) مہاراشٹر حکومت نے اسکولی طلبہ کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے اسکول بس اور ٹرانسپورٹ نظام کے لیے سخت اور جامع قواعد نافذ کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری مسودہ اعلامیے کے مطابق ’’مہاراشٹر موٹر وہی
Transport Maha School Bus Rules


ممبئی ، 11 اپریل (ہ س) مہاراشٹر حکومت نے اسکولی طلبہ کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے اسکول بس اور ٹرانسپورٹ نظام کے لیے سخت اور جامع قواعد نافذ کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری مسودہ اعلامیے کے مطابق ’’مہاراشٹر موٹر وہیکل (اسکول بس ریگولیشن) (اول ترمیم) قواعد، 2026‘‘ نافذ کرنے کی تجویز ہے، جس میں حفاظت، شفافیت اور جوابدہی پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ حکومت نے اس حوالے سے عوام سے 15 دن کے اندر تجاویز اور اعتراضات طلب کیے ہیں۔

نئے قواعد کے تحت اسکولی بسوں کے کرایے کا تعین اب علاقائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کرے گی اور طلبہ سے صرف ماہانہ فیس ہی وصول کی جا سکے گی، جبکہ پیشگی رقم لینے پر پابندی عائد کی جائے گی، جس سے والدین کو مالی راحت ملنے کی توقع ہے۔

ہر اسکول میں اسکول ٹرانسپورٹ کمیٹی قائم کی جائے گی، جو کرایہ، حفاظت اور خدمات سے متعلق والدین کی شکایات کا ازالہ کرے گی۔ اس کمیٹی کے لیے سہ ماہی رپورٹ پیش کرنا بھی لازمی ہوگا۔

حفاظتی اقدامات کے تحت تمام اسکولی بسوں اور وین میں جی پی ایس پر مبنی وہیکل لوکیشن ٹریکنگ ڈیوائس (VLTD)، پینک بٹن، فائر ڈٹیکشن اینڈ الارم سسٹم (FDAS)، سی سی ٹی وی کیمرے اور ہر نشست کے لیے سیٹ بیلٹ نصب کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ہر گاڑی میں ڈیجیٹل سیفٹی مانیٹرنگ سسٹم نصب کیا جائے گا، جس کے ذریعے گاڑی کی براہِ راست نگرانی، طلبہ کی ڈیجیٹل حاضری، خودکار الرٹس اور والدین کو فوری معلومات فراہم کی جائیں گی۔ اس نظام کو ریاستی سطح کے پلیٹ فارم سے بھی جوڑا جائے گا۔

طلبہ کی نگرانی کے لیے ہر سفر کے دوران ان کی آمد و روانگی کی تفصیلات درج کرنا لازمی ہوگا، جبکہ پری پرائمری اور پانچویں جماعت تک کے بچوں کے لیے ہر سفر میں خاتون معاون یا مقررہ عملہ موجود ہونا ضروری ہوگا۔

خصوصی ضروریات کے حامل طلبہ کے لیے تربیت یافتہ عملہ، آسان رسائی اور ضرورت پڑنے پر والدین یا اساتذہ کی موجودگی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

بس ڈرائیور، کنڈکٹر اور دیگر عملے کی مکمل جانچ، طبی فٹنس سرٹیفکیٹ اور باضابطہ تقرری لازمی ہوگی، جبکہ تمام ریکارڈ معائنہ کے لیے دستیاب رکھنا ہوگا۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ نئے قواعد کے نفاذ کے بعد تین ماہ کے اندر تمام اسکولی گاڑیوں کو ان تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کرنا ہوگا، بصورت دیگر ان کے پرمٹ معطل یا منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔

اسکولی ٹرانسپورٹ کی نگرانی کے لیے محکمہ تعلیم اور محکمہ ٹرانسپورٹ مشترکہ طور پر معائنہ کریں گے اور رپورٹس ضلع سطح کی کمیٹی کو پیش کی جائیں گی۔

وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائیک نے کہا کہ ان اصلاحات کے ذریعے اسکولی ٹرانسپورٹ مزید محفوظ، منظم اور ٹیکنالوجی سے آراستہ ہو جائے گا، جس سے والدین اور طلبہ کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande