تلنگانہ میں کئی ماووادیوں کی پولیس کے سامنے خود سپردگی
حیدرآباد، 11 اپریل (ہ س)۔تلنگانہ پولیس کے روبروآج سی پی آئی ماؤسٹ کے جملہ 42 کیڈرنے ہتھیارڈال دیئے جن میں عوامی آزادی گوریلا فوج اورتلنگانہ اسٹیٹ کمیٹی ارکان شامل تھے ۔ انہوں نے 36 اسلحہ جس میں 1007 کارتوس، دو دیسی ہینڈ گرینیڈ اور 800 گرام سونا ب
تلنگانہ میں کئی ماؤیسٹوں کی پولیس کوخود سپردگی ،


حیدرآباد، 11 اپریل (ہ س)۔تلنگانہ پولیس کے روبروآج سی پی آئی ماؤسٹ کے جملہ 42 کیڈرنے ہتھیارڈال دیئے جن میں عوامی آزادی گوریلا فوج اورتلنگانہ اسٹیٹ کمیٹی ارکان شامل تھے ۔ انہوں نے 36 اسلحہ جس میں 1007 کارتوس، دو دیسی ہینڈ گرینیڈ اور 800 گرام سونا بھی سپرد کردیا ۔خودسپرد ہونے والوں میں47 سالہ سودی ملا عرف کیشل عرف نکھل شامل ہیں، جوبٹالین کمانڈر اوردانڈا کرنیا اسپیشل زونل کمیٹی کا رکن تھا۔ ڈائرکٹرجنرل پولیس شیودھرریڈی نے بتایا کہ خود سپرد کیڈرس میں پی ایل جی اے بٹالین، تلنگانہ اسٹیٹ کمیٹی اور دانڈاکرنیا اسپیشل زونل کمیٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ جملہ 42 میں سے 21 پی ایل جی اے بٹالین سے، 11 تلنگانہ اسٹیٹ کمیٹی سے اور 10 دانڈاکرنیا اسپیشل زونل کمیٹی سے وابستہ ہیں۔ پولیس کو حوالے کردہ ہتھیاروں میں اے کے 47 رائفلز، ایس ایل آر، انساس رائفلز، 303 رائفلز، 9 ایم ایم اسٹین گن، پستول، ریوالوراوردیگراسلحہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خودسپرد ماؤسٹ تنظیم کی مسلح صلاحیتوں کو کمزورکرنے کا باعث بنا ہے۔ ڈی جی پی کہا کہ تلنگانہ میں کوئی فعال مسلح تنظیم باقی نہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تلنگانہ اسٹیٹ کمیٹی کے باقی ماؤسٹ کے خودسپردگی کے ساتھ سی پی آئی(ماؤسٹ) کی ریاستی سطح پر تنظیم کی شناخت مکمل ختم ہو گئی ہے اورریاست میں اس گروپ کی کوئی فعال مسلح تشکیل باقی نہیں رہی۔ ڈی جی پی نے بتایا کہ بحالی پالیسی کے تحت درجہ بندی کے مطابق خودسپرد کیڈرس کو ایک لاکھ سے 20 لاکھ روپے تک مالی امداد دی جائے گی۔ پولیس نے بتایا کہ 42 افراد کو کل 1.93 کروڑ روپے کا انعام تقسیم کیاجائے گا۔ چھتیس گڑھ سے تعلق رکھنے والوں کو25 ہزار روپے کی عارضی امداد دی گئی ہے، جبکہ تلنگانہ کے ایک کیڈرکو مناسب رقم مل چکی ہے۔ خود سپرد افراد کو صحت کی سہولیات اور معاشرے میں دوبارہ انضمام کی مدد بھی فراہم کی جائے گی۔ ڈی جی پی نے اسپیشل انٹلی جنس برانچ (ایس آئی بی) اور دیگر یونٹس کی کاوشوں کی ستائش کی۔۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande