
کولکاتا، 11 اپریل (ہ س)۔ ممتا بنرجی نے ہفتہ کو مغربی مدنا پور کے کیشیاڑی سے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی موجودگی میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ممکن نہیں ہیں۔
ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ممتا نے کہا، ”ہم منصفانہ انتخابات چاہتے ہیں، لیکن یہ بی جے پی کے روہے ہوئے ممکن نہیں ہے۔ ایس آئی آر ایک بڑا گھوٹالہ ہے۔ دہلی سے بنگال کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، لیکن ہمارا ہدف بھی دہلی ہے۔“
یکساں سول کوڈ پر سخت موقف
ممتا بنرجی نے یونیفارم سول کوڈ پر بھی بی جے پی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا، ”ایک ملک، ایک قانون کے نام پر تنوع کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہم اس کی بھرپور مخالفت کریں گے۔ جو بھی جبراً قانون لائے جائیںگے، اقتدار میں آنے پر انہیں منسوخ کر دیا جائے گا۔ “
وزیر اعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ ان کے خلاف سازش رچی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، ”میری نامزدگی منسوخ کرانے کے لیے میرے خلاف جھوٹے حلف نامے داخل کیے گئے، یہ جمہوریت کے خلاف ہے۔“
بی جے پی پر بنگال کو تقسیم کرنے کی کوشش کرنے کا الزام عائد ہوئے ممتا نے کہا،”بہار میں جن لوگوں کے ووٹ کاٹے گئے، انہیں راشن اور بینک اکاو¿نٹس میں کٹوتی کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، میں یہاں ایسا نہیں ہونے دوں گی۔ حد بندی بل پیش کرکے بنگال کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔“
انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے کبھی بھی قبائلی برادری کے ساتھ کام نہیں کیا۔ ”ہم نے ایسے قوانین بنائے ہیں جن سے قبائلیوں کو جنگل اور زمین کا حق دیا گیا ہے۔ کوئی بھی ان کی زمین زبردستی نہیں چھین سکتا۔“
جنگل محل علاقے میں ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا، ”ایک وقت میں، یہ علاقہ تشدد کی زد میں تھا، لوگ اپنے گھروں سے باہر نہیں نکل پاتے تھے۔ آج یہاں بڑے پیمانے پر تبدیلی ہوئی ہے اور یہ مرکزی حکومت کا نہیں بلکہ ریاستی حکومت کا تعاون ہے۔“
کیشیاڑی کے بعد ممتا بنرجی کے جھارگرام اور بانکوڑہ کے بڑجوڑ میں بھی پروگرام ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد