
جموں, 11 اپریل (ہ س)۔ جموں یونیورسٹی کو سی یو ای ٹی-پی جی کے بعد اپنے کامن انٹرنس ٹیسٹ (کیٹ) کے ذریعے بھی پوسٹ گریجویٹ نشستیں پُر کرنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ یونیورسٹی کی جانب سے 50 سے زائد پی جی کورسز میں داخلوں کے لیے الگ انٹرنس ٹیسٹ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، تاہم مطلوبہ تعداد میں درخواستیں موصول نہ ہونے کے باعث عمل متاثر ہوا ہے۔انتظامیہ نے آن لائن درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کرتے ہوئے اسے 12 اپریل تک بڑھا دیا ہے، جبکہ 19 اپریل کو ہونے والا انٹرنس ٹیسٹ بھی ملتوی کر دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی میں پی جی کی تقریباً 2500 نشستیں دستیاب ہیں۔
نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 کے تحت اگرچہ پی جی داخلے سی یو ای ٹی-پی جی کی بنیاد پر دیے جا رہے ہیں، تاہم نشستیں خالی رہنے کی وجہ سے جموں یونیورسٹی سمیت کشمیر یونیورسٹی اور کلسٹر یونیورسٹیز جموں و سری نگر بھی اپنے الگ داخلہ ٹیسٹ منعقد کر رہی ہیں۔ اس صورتحال میں طلبہ کو دونوں امتحانات میں شرکت کرنی پڑ رہی ہے۔گزشتہ برس بھی جموں یونیورسٹی کو اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا، جب انٹرنس ٹیسٹ کے باوجود کئی نشستیں خالی رہ گئیں۔ بعد ازاں گریجویشن کی بنیاد پر داخلے دیے گئے، تاہم پنجابی، سنسکرت، ڈوگری اور بدھسٹ جیسے کورسز میں نشستیں پھر بھی خالی رہیں۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق خطے کے طلبہ کا رجحان بیرونی ریاستوں کے نجی تعلیمی اداروں کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کے باعث مقامی یونیورسٹیوں میں داخلوں کی شرح متاثر ہو رہی ہے۔ اس تناظر میں جموں و کشمیر حکومت نے حالیہ بجٹ اجلاس میں نجی یونیورسٹیوں کے قیام سے متعلق قانون منظور کیا ہے، جس سے مستقبل میں تعلیمی شعبے میں بہتری کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر