جی ایچ ایم سی میں بدعنوانیوں کے لیے وزیراعلی ذمہ دار : کویتا
حیدرآباد ، 11 اپریل (ہ س) ۔ تلنگانہ جاگرتی کی سربراہ اور سابق ایم ایل سی کے کویتا نے کانگریس حکومت پرشدید تنقید کرتے ہوئے جی ایچ ایم سی اور ایچ ایم ڈی اے میں بڑے پیمانے پربدعنوانیوں کے لیے وزیراعلی ریونت ریڈی کو ذمہ دار قراردیا ۔ آج تلنگانہ جاگرتی
جی ایچ ایم سی میں بدعنوانیوں کے لیے وزیراعلی ذمہ دار : کویتا


حیدرآباد ، 11 اپریل (ہ س) ۔ تلنگانہ جاگرتی کی سربراہ اور سابق ایم ایل سی کے کویتا نے کانگریس حکومت پرشدید تنقید کرتے ہوئے جی ایچ ایم سی اور ایچ ایم ڈی اے میں بڑے پیمانے پربدعنوانیوں کے لیے وزیراعلی ریونت ریڈی کو ذمہ دار قراردیا ۔ آج تلنگانہ جاگرتی کی آفس پر میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے کویتا نے الزام لگایا کہ سرکاری قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹنڈرس من مانی طریقے سے اپنے قریبی افراد کو دئیے جارہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں جہاں 5 لاکھ روپئے کے کام ٹنڈرس کے ذریعہ دئیے جاتے ہیں ۔ وہیں جی ایچ ایم سی میں نامزدگی کے طریقہ کارکے ذریعہ 1148 کروڑ روپئے کے کام الاٹ کئے گئے جو تلنگانہ اسٹیٹ فینانشیل کوڈ کے خلاف ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جو کانگریس پارٹی ماضی میں بی آرایس حکومت پربدعنوانیوں کے الزامات لگاتی رہی وہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد بی آر ایس سے بھی زیادہ بدعنوانیوں میں ملوث ہوگئی ہے ۔

کویتا نے مطالبہ کیا کہ نامزدگی کے طریقہ کار کو فوری طور پر ختم کیا جائے ۔ کویتا نے حکومت پر حیڈرا کے نام پر رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کو ہراساں کرنے کا بھی الزام عائد کیا اور کہا کہ تاجروں سے فی مربع فٹ 150 روپئے وصول کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ بدعنوانی کے تمام ثبوت انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے حوالے کرے گی ۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ حیدرآباد کی ترقی کے نام پر حاصل کئے گئے 35 ہزار کروڑ روپئے کہاں گئے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande