
حیدرآباد ، 11 اپریل (ہ س) ۔ وزیرسیاحت جوپلی کرشنا راؤنے الزام عائد کیاکہ بی آر ایس کے 10 سالہ دورحکومت میں آبپاشی پروجیکٹس تکمیل اوردریاؤں کے پانی میں تلنگانہ کے حقوق کے تحفظ کیلئے اقدامات نہیں کئے گئے۔ سی ایل پی آفس میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے جوپلی کرشنا راؤ نے کہا کہ بی آرایس حکومت کی پالیسیوں کے نتیجہ میں متحدہ محبوب نگرضلع کے آبپاشی پروجیکٹس متاثرہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی نے عوام سے کئے گئے وعدہ کی تکمیل کرتے ہوئے تلنگانہ ریاست قائم کی اور کے سی آرنے اقتدارسنبھالا۔ انہوں نے کہا کہ محبوب نگر ضلع سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں بی آرایس حکومت ناکام ہوگئی۔ گولا پلی ذخیرہ آب کی تعمیر کیلئے 2016 میں 25 ٹی ایم سی پانی مختص کرتے ہوئے جی او جاری کیا گیا۔ بی آرایس حکومت میں مارچ 2019 میں پروجیکٹ کے لئے پیشرفت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش حکومت نے سری سیلم سے بجلی پیداوارکا آغاز کرتے ہوئے تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کی لیکن بی آرایس حکومت نے خاموشی اختیار کرلی۔ کے سی آر نے وزیراعلی کی حیثیت سے دریائے کرشنا کے پانی میں آندھراپردیش کےلئے 512 ٹی ایم سی اورتلنگانہ کیلئے299 ٹی ایم سی کی سپلائی کے معاہدہ پر دستخط کئے۔ بی آرایس کے 10 برسوں میں محبوب نگر کے پروجیکٹس پر 7000 کروڑ خرچ کئے گئے جبکہ متحدہ آندھراپردیش میں کانگریس حکومت نے 8300 کروڑخرچ کئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت سیاسی انتقامی کارروائیوں پر یقین نہیں رکھتی ، لہذا گزشتہ دو برسوں میں محبوب نگر ضلع میں ایک بھی بی آر ایس لیڈر کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ کرشناراؤ نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ تحریک میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے وزارت سے استعفیٰ دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک اور تلنگانہ میں آئندہ انتخابات میں کانگریس برسر اقتدار آئے گی اور آبپاشی پروجیکٹس کی تکمیل کرے گی۔۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق