
بی جے پی نے ڈوڈہ میں نیشنل لاء یونیورسٹی کے قیام کے مطالبے کے لئے احتجاج کیا
جموں، 11 اپریل (ہ س)۔ جموں و کشمیر میں نیشنل لاء یونیورسٹی کے قیام کو لے کر جاری تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے اور اس کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج اب وسیع تر علاقوں تک پھیل چکا ہے۔ وادی کشمیر میں یونیورسٹی کے قیام کے اعلان کے بعد جموں خطے میں اٹھنے والی ناراضگی اب خطہ چناب تک پہنچ گئی ہے، جہاں مختلف تنظیمیں اور نوجوان سراپا احتجاج ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی یوا مورچہ کے ریاستی صدر ارون پربھات کی قیادت میں ڈوڈہ میں بی جے پی کے نوجوان کارکنان نے حکومت کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا۔
مظاہرین نے ڈاگ بنگلہ سے گھنٹہ گھر تک احتجاجی ریلی نکالی، جس میں شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور جموں کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف نعرے بازی کی۔ احتجاج کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ارون پربھات نے کہا کہ وہ کشمیر میں نیشنل لاء یونیورسٹی کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہیں، تاہم جموں کو نظر انداز کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جموں صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جموں صوبے کے تمام دس اضلاع نیشنل لاء یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں اور جب تک جموں میں بھی یونیورسٹی قائم نہیں کی جاتی، احتجاجی تحریک مزید تیز کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی حکومت کے پاس نیشنل لاء یونیورسٹی ایکٹ 2018 کے تحت جموں میں بھی یونیورسٹی قائم کرنے کا مکمل اختیار موجود ہے، مگر حکومت مبینہ طور پر گمراہ کن بیانات دے کر عوام کو بہلا رہی ہے۔ادھر، احتجاج کے دائرہ کار میں مسلسل وسعت آ رہی ہے، جس سے آنے والے دنوں میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر