
علی گڑھ، 11 اپریل (ہ س)۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سنی دینیات، اور ہنری مارٹن انسٹی ٹیوٹ،حیدرآباد کے اشتراک سے جاری دو روزہ قومی سیمینار بعنوان ''بقائے باہم اور مذاہب عالم '' کی اختتامی نشست شعبہ دینیات سنی کے سینٹرل ہال میں منعقد ہوئی۔جس کی صدارت ملک کی مشہورو معروف شخصیت پدم شر ی پروفیسر اختر الواسع،جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی نے کی۔انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اسلام انسانیت کو فروغ دیتا ہے اور انسانوں کو ایک دوسرے سے قریب لاتا ہے۔قرآن نے لا اکراہ فی الدین اور لکم دینکم ولی دین کا تصور دیا ہے۔ اس نشست میں نئی دہلی سے تشریف لائے مشہور اسلامک اسکالر،مہمان اعزازی مولانا کلب رشید رضوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ نفس کو قابو میں رکھنا اور اس پر حکمرانی حاصل کرلینا بقائے باہم میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ نفس پر کنٹرول کاحاصل ہوجانا انسان کو دوسروں کی زندگی کو زندگی سمجھنے میں تعاون فراہم کرتا ہے،
نائب ناظم امارت شریعہ پٹنہ،بہار مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی نے شعبۂ سنی دینیات اور ہنری مارٹن انسٹی ٹیوٹ کے ذمہ داران کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک سلگتے موضوع پر کامیاب سیمینار کا انعقاد کیا گیاہے۔ہمیں آج اگر حالات کی سنگینی کا شکوہ ہے تو یاد رکھنا چاہئے کہ تمام انبیاء کرام مشکل حالات میں مبعوث ہوئے ہیں اور یہ خیر امت ہے جس کا موقف داعیانہ ہے۔ہمیں بقائے باہمی کے لئے اپنی جانب سے مکمل محنت کرنی چاہئے۔
سیمینار کی اختتامی نشست کنوینر سیمینار،سابق ڈین فیکلٹی آف تھیالوجی پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی نے سیمینار کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ سیمینار میں پڑھے گئے مقالات کا مجموعہ شائع کردیا گیا ہے۔
پروفیسر قاسمی نے مقالات کا عددی خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیمینار میں کل آٹھ (۸)سیشن ہوئے،جن میں سے چھ سیشن آف لائن جبکہ دو سیشن آن لائن منعقد ہوئے۔سیمینار میں پڑھے گئے مقالات کی کل تعداداٹھانوے(98)تھی،جن میں سے اڑسٹھ (68)مقالات مردوں کے اور تیس (30) مقالات خواتین کے تھے۔ڈین فیکلٹی آف تھیالوجی نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے اپنے عقائد کے پاس و لحاظ کے ساتھ باہمی رواداری کا حکم دیا ہے۔
ڈائرکٹر سیمینار،صدر شعبہ سنی دینیات پروفیسر محمد راشد نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے کہاکہ اس سیمینار کے انعقاد کا مقصد ملک میں امن و امان کا قیام ہے۔جس کے لئے ضروری ہے کہ لوگ خواہشات نفس کی غلامی سے نکل کر قانون کی اتباع کریں۔اس موقع پر ہنری مارٹن انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر وحید اللہ قاسمی،جے این یو کے ڈاکٹر وِنے کمار اور کے جی پوسونگ لنگ کے علاوہ ملک کے مختلف جامعات و اداروں سے تشریف لائے ہوئے معزز مہمانان کرام نے سیمینار کے تعلق سے اپنے تاثرات کا اظہار کیا،ساتھ ہی شعبہ سنی دینیات کی تھیالوجکل سوسائٹی کے ترجمان مجلہ الدین کا رسم اجراء بھی عمل میں آیا ۔نشست کا آغاز شعبہ کے ریسرچ اسکالر عمر غنی کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا جب کہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد ناصر نے انجام دئے، اور ڈاکٹر محمد عاصم خان نے کلمات تشکر پیش کئے۔
واضح ہو کہ اس سیمینار کو تاریخ ساز بنانے میں ڈائرکٹر اور کنوینر کے علاوہ معان کنوینر ڈاکٹر ندیم اشرف اور ڈاکٹر ریحان اختر و کو ارڈینیٹر ڈاکٹر محمد عاصم خاں اور ڈاکٹر محمد ناصر نے اہم کردار ادا کیا۔سیمینار میں مولانا فضل الرحیم مجددی،پروفیسر عبید اللہ فہد فلاحی،پروفیسر لطیف الرحمن کاظمی،ڈاکٹر شائستہ پروین اور ڈاکٹر حبیب الرحمن کے علاوہ یونیورسٹی کے دیگر شعبہ جات و بیرون یونیورسٹی سے کثیر تعداد میں اساتذہ، طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ