شعبہ تعلیم میں عالمی ہم آہنگی اور یوگ پر لیکچر کا اہتمام
شعبہ تعلیم میں عالمی ہم آہنگی اور یوگ پر لیکچر کا اہتمام علی گڑھ، 10 اپریل (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ تعلیم نے ”وسودھیو کٹمبکم اور یوگ: عالمی ہم آہنگی کے لیے ایک متحدہ وژن“ موضوع پر ایک لیکچر کا اہتمام کیا جس میں اساتذہ، ریسرچ اسکالرز ا
یوگ لیکچر


شعبہ تعلیم میں عالمی ہم آہنگی اور یوگ پر لیکچر کا اہتمام

علی گڑھ، 10 اپریل (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ تعلیم نے ”وسودھیو کٹمبکم اور یوگ: عالمی ہم آہنگی کے لیے ایک متحدہ وژن“ موضوع پر ایک لیکچر کا اہتمام کیا جس میں اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔ یہ لیکچر پروفیسر سید طارق مرتضیٰ، ڈائریکٹر، اکھنڈ یوگ نے پیش کیا۔ شعبہ تعلیم کی چیئرپرسن پروفیسر نکہت نسرین نے انھیں یادگاری نشان پیش کیا۔

اپنے خطاب میں پروفیسر مرتضیٰ نے معاشرتی مسائل کی جڑ تک پہنچنے اور خود احتسابی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاشرہ انسانی اقدار سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے ’ریفرنس آف لائف‘ کے تصور کو متعارف کراتے ہوئے لوگوں کو فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے اور اجتماعی فلاح کے لیے کام کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے مغربی تصور ”سب سے زیادہ تندرست کی بقا“ کا موازنہ یوگ کے اصول ”انسانیت کے لئے سب سے زیادہ مفید کی بقا“ سے کرتے ہوئے کہا کہ یوگ انسانی تکالیف کو کم کرنے اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے بھگوت گیتا کا حوالہ دیتے ہوئے یوگ کے دو مقاصد بیان کیے: فرد کی نجات (کیولیہ) اور عالمی فلاح (وسودھیو کٹمبکم)۔اس سے قبل ڈاکٹر عمران نے حاضرین کا خیرمقدم کرتے ہوئے عالمی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے فلسفیانہ اور روحانی نظریات کو تعلیم میں شامل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کلمات تشکر بھی ادا کیے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande