
جموں, 10 اپریل (ہ س)وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ریاست میں آبی ذخائر کی تیزی سے بگڑتی صورتحال تشویشناک ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔انہوں نے حالیہ سی اے جی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں 315 آبی ذخائر ختم ہو چکے ہیں جبکہ 205 سکڑ گئے ہیں، جو ماحولیاتی دباؤ کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شہری پھیلاؤ، زمین پر بڑھتا دباؤ اور موسمیاتی تبدیلی آبی وسائل کی تباہی کی بڑی وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلیاں عوام خود بھی محسوس کر رہے ہیں، اس لیے اس مسئلے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے ماحولیات کے تحفظ کو اجتماعی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں ہوں گے بلکہ عوام کو بھی اپنے طرزِ زندگی میں تبدیلی لانی ہوگی۔ انہوں نے پلاسٹک بیگز کے استعمال میں کمی لانے پر زور دیا اور کہا کہ اگر عوام نے خود احتیاط نہ کی تو حکومت کو سخت اقدامات اٹھانے پڑ سکتے ہیں۔خواتین ریزرویشن بل کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے مرکز سے وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ جب ایک بل پہلے ہی منظور ہو چکا تھا تو نئے بل کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری اور حد بندی کے بعد ریزرویشن دینے کی بات کی گئی تھی، جس پر اب وضاحت ضروری ہے۔
مقامی سطح پر انہوں نے کہا کہ شہری بلدیاتی اداروں کے انتخابات مناسب وقت پر کرائے جائیں گے۔بین الاقوامی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو لگام دے تاکہ جنگ بندی برقرار رہ سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنگ بندی ناکام ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوگی۔انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زبان ایک عالمی رہنما کے شایانِ شان نہیں۔وزیر اعلیٰ نے جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اہم کردار ادا کیا، جبکہ انڈیا کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات اس کی ثالثی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر