
مودی سرکار کے دور میں کشمیر بدلنے کی تعریفنئی دہلی،10اپریل(ہ س)۔
ورلڈ پیس ہارمنی کے چیئرمین شکیل سیفی نے کشمیر کے اپنے دو روزہ دورے کے دوران حال ہی میں دنیا بھر میں جاری تنازعات کے خاتمے اور عالمی امن کے قیام کے لیے پرزور اپیل کی۔ ان کے دورے اور تقریر نے نہ صرف امن کی اہمیت کو اجاگر کیا بلکہ دنیا کی توجہ کشمیر میں ہونے والی مثبت تبدیلیوں کی طرف بھی مبذول کرائی۔ مقامی نوجوانوں اور کمیونٹی رہنماو¿ں سے خطاب کرتے ہوئے شکیل سیفی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جنگ کبھی بھی کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہو سکتی۔ عالمی سطح پر جاری تشدد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے فوری جنگ بندی اور بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف اور ہم آہنگی پائیدار امن کی بنیاد ہے۔
اپنے دورے کے دوران شکیل سیفی نے کشمیر کے بدلتے ہوئے منظرنامے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کی بدولت کشمیر ترقی اور امن کی نئی راہ پر گامزن ہے۔ کئی دہائیوں کی بدامنی کے بعد، وادی کے نوجوان اب کتابیں اور لیپ ٹاپ تھامے ہوئے ہیں، پتھر نہیں۔ سیاحت عروج پر ہے، اور مقامی معیشت نئی طاقت حاصل کر رہی ہے۔ کشمیر کے لوگ اب علیحدگی پسندی کو ترک کر کے ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل ہو رہے ہیں، جو ایک نئے کشمیر کی شاندار تصویر پیش کر رہے ہیں۔
سعودی عرب اور خانہ کعبہ کے تقدس کا ذکر کرتے ہوئے شکیل سیفی نے کہا کہ مذہبی مقامات پر غلط کام بدامنی کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے عالمی رہنماو¿ں پر زور دیا کہ وہ تشدد کے بجائے باہمی افہام و تفہیم اور پرامن حل کو ترجیح دیں۔ انہوں نے کشمیر کے لوگوں بالخصوص نوجوانوں سے امن، اتحاد اور مفاہمت کے سفیر کے طور پر کام کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اخلاقی طرز عمل اور مقدس اقدار کا احترام ہی دنیا کو مصائب اور انتشار سے بچانے کا واحد راستہ ہے۔ شکیل سیفی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کشمیر امن اور ترقی کے ایک نئے دور کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ مودی حکومت کی پالیسیوں اور ورلڈ پیس ہارمنی جیسی تنظیموں کی کوششوں سے یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ کشمیر نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کے لیے امن اور ہم آہنگی کی روشن مثال بنے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais