
عدالت عالیہ نے نجی اسکولوں کی جانب سے دائر عرضی کو مسترد کر دیا
جموں، 10 اپریل (ہ س)۔ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے نجی اسکولوں کی جانب سے دائر ایک عرضی کو مسترد کرتے ہوئے 10 سال کی تاخیر کو ناقابلِ قبول قرار دے دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اتنی طویل تاخیر کے لیے کوئی معقول یا ٹھوس وجہ پیش نہیں کی گئی۔ چیف جسٹس ارون پلی اور جسٹس اوسوال پر مشتمل بنچ نے آل جے کے ان ایڈیڈ پرائیویٹ اسکول کوآرڈینیشن کمیٹی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے 2016 کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے میں ہوئی 3633 دن کی تاخیر کو معاف کرنے سے انکار کر دیا۔ ساتھ ہی 2024 کے حکم کے خلاف اپیل میں 545 دن کی تاخیر کی معافی کی درخواست بھی خارج کر دی گئی۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ درخواست گزار کی جانب سے مختلف مراحل پر متضاد مؤقف اپنایا گیا، جو عدالتی عمل کے غلط استعمال کے مترادف ہے۔ عدالت کے مطابق، درخواست گزار اتنی طویل تاخیر کے لیے کوئی قابلِ قبول جواز پیش کرنے میں ناکام رہا۔ کیس کی تفصیلات کے مطابق، نجی اسکولوں کی تنظیم نے 2016 میں ایک رِٹ پٹیشن دائر کر کے ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن کشمیر کے احکامات اور بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے سرکلر کو چیلنج کیا تھا، جس میں طلبہ کی حفاظت سے متعلق سپریم کورٹ کے رہنما اصولوں پر عملدرآمد کا معاملہ بھی شامل تھا۔
ہائی کورٹ نے یاد دلایا کہ 10 فروری 2016 کو رِٹ پٹیشن مسترد کر دی گئی تھی، تاہم درخواست گزار کو متعلقہ حکم کو الگ سے چیلنج کرنے کی آزادی دی گئی تھی۔ اس کے باوجود بروقت کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا اور بعد میں دائر درخواست بھی 2 ستمبر 2024 کو خارج ہو گئی۔ آخرکار عدالت نے تاخیر معافی کی درخواست اور اپیل دونوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، تاہم درخواست گزار کو قانون کے تحت دیگر دستیاب قانونی راستے اختیار کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر