
بنگال میں 81 انسپکٹر اور 68 سب انسپکٹر انتخابی ڈیوٹی سے ہٹائے گئے
کولکاتا، 10 اپریل (ہ س)۔ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن نے ریاستی پولیس میں ایک بار پھر بڑی انتظامی رد و بدل کی ہے۔ کمیشن نے 81 پولیس انسپکٹروں اور 68 سب انسپکٹروں کو انتخابی ڈیوٹی سے ہٹا دیا ہے۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ یہ افسران اب کسی بھی طرح سے انتخاب سے متعلق کاموں میں شامل نہیں رہیں گے۔ کمیشن کی ہدایت کے مطابق متعلقہ پولیس سپرنٹنڈنٹس نے ان افسران کے خلاف کارروائی کی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنانے کو کہا گیا ہے کہ یہ افسران براہِ راست یا بالواسطہ طور پر انتخابی عمل میں مداخلت نہیں کریں گے، اس کے لیے ان سے تحریری یقین دہانی لی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق، کولکاتا کے سابق پولیس کمشنر سپرتیم سرکار کو بھی راحت نہیں دی گئی ہے۔ انہیں انتخابی ڈیوٹی کے تحت مبصر (آبزرور) کے طور پر تمل ناڈو بھیجا جائے گا۔ قابلِ ذکر ہے کہ انہوں نے جسمانی ناسازی کا حوالہ دیتے ہوئے اس ذمہ داری سے رعایت مانگی تھی، لیکن کمیشن نے اسے قبول نہیں کیا۔ کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ہٹائے گئے 81 انسپکٹروں کو نئی ذمہ داریاں بھی سونپ دی گئی ہیں اور انہیں جمعہ کی شام 5 بجے تک اپنے نئے عہدے کا چارج سنبھالنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
جن اضلاع کے انسپکٹروں کو ہٹایا گیا ہے، ان میں کوچ بہار، رائے گنج، اسلام پور، علی پور دوار، جنوبی دیناج پور، سلی گوڑی، ڈائمنڈ ہاربر، باروئی پور، باراسات، بسیر ہاٹ، بونگاوں، بیرک پور، ودھان نگر، کرشن نگر، رانا گھاٹ، آسنسول-درگاپور، مغربی میدنی پور، مشرقی میدنی پور، پورولیا، بیربھوم، جلپائی گوڑی، مالدہ اور بانکوڑا شامل ہیں۔
ریاست میں 294 اسمبلی نشستوں پر 23 اور 29 اپریل کو دو مرحلوں میں ووٹنگ ہونی ہے۔ انتخابات کے اعلان کے بعد سے ہی ریاستی انتظامیہ پر الیکشن کمیشن کا کنٹرول ہے اور اسی سلسلے میں بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ تاہم، ان تبدیلیوں پر برسراقتدار ترنمول کانگریس نے اعتراض ظاہر کیا ہے۔ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے کئی عوامی جلسوں میں الیکشن کمیشن کے کردار کی تنقید کی ہے اور خاص طور پر سپرتیم سرکار کی تعیناتی کے معاملے پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن