ناسک کی آئی ٹی کمپنی میں مبینہ ہراسانی اور مذہبی تبدیلی معاملہ، خاتون مینیجر گرفتار
ناسک، 10 اپریل (ہ س)۔ مہاراشٹر کے ناسک ضلع میں ایک آئی ٹی کمپنی میں مبینہ جنسی ہراسانی اور مذہبی تبدیلی سے متعلق معاملے میں پولیس نے کمپنی کی خاتون مینیجراشوینی چینانی کوگرفتارکرلیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے خواتین ملازمین کے ساتھ بدسلوکی ک
Crime Nashik IT Company


ناسک، 10 اپریل (ہ س)۔ مہاراشٹر کے ناسک ضلع میں ایک آئی ٹی کمپنی میں مبینہ جنسی ہراسانی اور مذہبی تبدیلی سے متعلق معاملے میں پولیس نے کمپنی کی خاتون مینیجراشوینی چینانی کوگرفتارکرلیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے خواتین ملازمین کے ساتھ بدسلوکی کے معاملات کو دبانے اوراندرونی طورپرچھپانے کی کوشش کی۔پولیس کمشنر سندیپ کارنک کے مطابق بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ (بی پی او) کمپنی کے 51 سالہ ہیومن ریسورس مینیجر کو بھی متعدد ملازمین سے متعلق جنسی استحصال اور ہراسانی کے مقدمات میں گرفتار کیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق ناسک پولیس نے جمعرات کو پونے کے لولانگرعلاقے میں رہائش پذیرمینیجرکونوٹس جاری کرکے وضاحت طلب کی تھی، جس کے بعد جمعہ کو انہیں گرفتار کیا گیا۔ اس کیس میں اس سے قبل 6 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ مینیجر کو ساتویں ملزم کے طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق کمپنی کے 9 ملازمین نے مینیجر سمیت 7 سینئر عہدیداران کے خلاف جنسی ہراسانی، استحصال اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات پر شکایات درج کرائی تھیں۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک خاتون ملازمہ نے 26 مارچ کو دیولالی پولیس اسٹیشن میں اپنے سینئر ساتھی کے خلاف زیادتی کا مقدمہ درج کرایا۔ اس کے بعد مزید 8 ملازمین، جن میں ایک مرد ملازم بھی شامل ہے، نے ممبئی ناکا پولیس اسٹیشن میں الگ الگ شکایات درج کروائیں، جن میں آخری شکایت 3 اپریل کو درج کی گئی۔شکایات موصول ہونے کے بعد پولیس نے خاتون اہلکاروں کو سادہ لباس میں کمپنی میں بھیج کر حقائق کی جانچ کی، جس کے بعد تمام ملزمان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے اور دیگر ممکنہ پہلوؤں کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande