
بارڈر کسان مورچہ نے بجلی کے بلوں کی مکمل معافی کا مطالبہ کیا
جموں، 10 اپریل (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے سرحدی علاقوں کے کسانوں نے اپنے مسائل کے حل کے لیے ’بارڈر کسان مورچہ‘ قائم کرتے ہوئے بجلی کے بلوں کی مکمل معافی کا مطالبہ کر دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں احتجاج شروع کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق بھارت-پاک بین الاقوامی سرحد سے متصل پانچ کلومیٹر کے دائرے میں آنے والے دیہات کے کسانوں کا ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں باقاعدہ طور پر بارڈر کسان مورچہ تشکیل دیا گیا۔
اجلاس کے دوران کسانوں نے مرکزی اور جموں و کشمیر حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے کسانوں کے گھریلو اور زرعی استعمال کے بجلی بل مکمل طور پر معاف کیے جائیں۔ کسانوں نے کہا کہ سرحد پار سے ہونے والی گولہ باری کے باعث انہیں بارہا نقصان اٹھانا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے ان کے لیے بجلی کے بل ادا کرنا ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے کسانوں سے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد تیز کرنے کی اپیل بھی کی۔
اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ مورچہ کے اراکین جلد لیفٹیننٹ گورنر، وزیر اعلیٰ اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کر کے مطالباتی میمورنڈم پیش کریں گے۔ کسان رہنماؤں نے واضح کیا کہ اگر ان کے مطالبات کو نظر انداز کیا گیا تو وہ احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ 1947 سے اب تک سرحدی علاقوں کے لوگ مسلسل مشکلات اور نقصانات کا سامنا کر رہے ہیں، مگر حکومتوں کی جانب سے صرف وعدوں پر اکتفا کیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر