

تلنگانہ میں 130 ماونوازوں کی وزیر اعلی ریونت ریڈیی کی موجودگی میں خودسپردگی
حیدرآباد، 7 مارچ (ہ س)۔ تلنگانہ میں نکسل ازم کے خلاف جاری مہم کو ہفتہ کے دن ایک اہم پیش رفت حاصل ہوئی، جب 130 ماونوازوں نے ریاستی حکومت کے سامنے خودسپردگی کی اور قومی دھارے میں واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ یہ اجتماعی خودسپردگی تلنگانہ کے وزیر اعلی ریونت ریڈی کی موجودگی میں حیدرآباد کے بنجارہ ہلز میں واقع انٹیگریٹڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر میں ہوئی۔
تلنگانہ پولیس کے مطابق جن لوگوں نے خودسپردگی کی ہے ان میں ماؤنواز لیڈر دیوجی سے وابستہ پوری کمیٹی شامل ہے۔ اس گروپ میں دیوجی، بڑے چکا راؤ، نونے نرسمہاریڈی، اور ملا راجی ریڈی جیسے سرکردہ لیڈروں کے ساتھ ساتھ ان کے بندوق بردار بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ماؤنواز تنظیم کے کمپیوٹر اور سگنل آپریٹرز نے بھی حکومت کے سامنے خودسپردگی اختیار کرتے ہوئے قومی دھارے میں واپس آگئے۔
اس اجتماعی خودسپردگی کی ایک دلچسپ حقیقت سامنے آئی وہ یہ تھی کہ تلگو فلم اداکار کاکرالا ستیہ نارائنا کی بیٹی مادھوی بھی ہتھیار ڈالنے والوں میں شامل تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ سینئر ماوسٹ دیوجی کی پوری پیپلز لبریشن گوریلا آرمی کے ارکان بھی اس گروپ میں شامل ہیں۔
اسی دوران ماونواز لیڈر سنتوش نے بھی اپنے ساتھیوں سمیت خودسپردگی اختیار کی۔ انہوں نے بڑی تعداد میں ہتھیار بشمول 31 اے کے-47 رائفلس سیکورٹی فورسز کے حوالے کیں۔ آندھرا-اڈیشہ سرحدی علاقے میں ایک ممتازخاتون کمانڈرچلاسانی ناواتھا بھی ہتھیار ڈالنے والوں میں شامل تھیں۔ وزیراعلی ریونت ریڈی نے کمانڈ کنٹرول سنٹر میں جمع ہتھیاروں کامعائنہ کیا اور خود سپردگی کرنے والے ماؤنوازوں سے بات کی۔
انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت کی بحالی کی پالیسی اور ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے بہت سے ماؤنواز تشدد ترک کرکے مرکزی دھارے میں واپس آرہے ہیں۔ تلنگانہ کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) شیودھر ریڈی نے کہا کہ سیکورٹی ایجنسیوں کے مسلسل دباؤ اورحکومت کی باز آبادکاری پالیسی کی وجہ سے بڑی تعداد میں ماؤنوازوں نے ہتھیارڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہتھیار ڈالنے والوں میں 125 چھتیس گڑھ، چار تلنگانہ اور ایک آندھرا پردیش سے ہے۔
ڈی جی پی کے مطابق، جن لوگوں نے ہفتہ کو خود سپردگی میں ریاستی کمیٹی کے تین ارکان، ڈویژنل کمیٹی کے 10 ارکان اورایریا کمیٹی کے 40 ارکان شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں ماؤنوازوں کا بیک وقت ہتھیارڈالنا سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ ماہرین کاخیال ہے کہ خودسپردگی حالیہ لہر ماویسٹ تحریک کو کمزور کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس سے نکسل متاثرہ علاقوں میں امن، سلامتی اور ترقی کے امکانات کو بھی تقویت ملی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق