
جموں, 06 مارچ (ہ س)سرینگر لیہہ شاہراہ پر واقع اہم زوجیلا درہ اس سال پہلی مرتبہ 28 فروری کے بعد بھی کھلا رہا ہے، جو رابطہ کاری کے لحاظ سے ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔بارڈر روڈ آرگنائزیشن نے جمعہ کے روز بتایا کہ شدید برف باری کے باوجود یہ پہاڑی درہ بدستور قابلِ آمدورفت ہے۔تقریباً 11 ہزار 500 فٹ کی بلندی پر واقع زوجیلا درہ لداخ اور وادیٔ کشمیر کے درمیان شہری ضروریات اور فوجی رسد کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ مانا جاتا ہے۔ بی آر او کے مطابق مسلسل برف باری کے باوجود عملہ جدید مشینوں کی مدد سے سڑک کو صاف رکھ کر آمدورفت بحال رکھنے میں مصروف ہے۔
بی آر او نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ 28 فروری کے بعد بھی زوجیلا درہ کا کھلا رہنا ایک تاریخی پیش رفت ہے اور یہ عملے کی مسلسل محنت اور عزم کا نتیجہ ہے، جو لداخ اور وادیٔ کشمیر کے درمیان اس اہم شاہراہ کو ہر حال میں کھلا رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔بی آر او کی جانب سے جاری ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شاہراہ کے دونوں جانب برف کی اونچی دیواریں موجود ہیں جبکہ برف ہٹانے والی مشینیں اور عملہ مسلسل کام میں مصروف ہے۔ ویڈیو میں بلڈوزر اور برف کاٹنے والی مشینیں برف کی موٹی تہوں کو ہٹا کر سڑک صاف کرتی دکھائی دیتی ہیں جبکہ گاڑیاں احتیاط کے ساتھ گزر رہی ہیں۔
حکام کے مطابق گزشتہ سال سردیوں میں زوجیلا درہ تقریباً 30 دن تک بند رہا تھا، تاہم اس سال 28 فروری کے بعد بھی اس کا کھلا رہنا ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اگرچہ اس موسمِ سرما میں بالائی علاقوں میں نسبتاً کم برف باری ہوئی، تاہم موسم کی سختیاں بدستور برقرار ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر