کھو-کھو کے میدان سے ہندوستانی خواتین کی ہاکی ٹیم تک: ایک چھوٹے گاو¿ں کی لڑکی رتوجا داداسو پسال کا متاثر کن سفر
- آئندہ ایف آئی ایچ ہاکی ویمنز ورلڈ کپ 2026 کوالیفائر، حیدرآباد (تلنگانہ) کے لیے ہندوستانی ٹیم میں شامل نئی دہلی، 6 مارچ (ہ س)۔ محض 23 سال کی عمر میں، رتوجا داداسو پسال ہندوستانی سینئر خواتین کی ہاکی ٹیم میںمستقل کھلاڑی بن چکی ہیں۔ مڈفیلڈ میں اپنی
Sports-Hockey-RutajaDadaso-IndianTeam


- آئندہ ایف آئی ایچ ہاکی ویمنز ورلڈ کپ 2026 کوالیفائر، حیدرآباد (تلنگانہ) کے لیے ہندوستانی ٹیم میں شامل

نئی دہلی، 6 مارچ (ہ س)۔ محض 23 سال کی عمر میں، رتوجا داداسو پسال ہندوستانی سینئر خواتین کی ہاکی ٹیم میںمستقل کھلاڑی بن چکی ہیں۔ مڈفیلڈ میں اپنی مضبوط موجودگی کے لیے مشہور،رتوجا کو حیدرآباد، تلنگانہ میں ایف آئی ایچ ہاکی ویمنز ورلڈ کپ 2026 کوالیفائرز کے لیے ہندوستانی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ ٹورنامنٹ 8 سے 14 مارچ تک کھیلا جائے گا۔

رتوجا، جو مہاراشٹر کے ستارہ ضلع کے ایک چھوٹے سے قصبے پھلٹن سے تعلق رکھتی ہیں، کا ہاکی کا سفر کچھ مختلف رہا۔

انہوں نے ہاکی انڈیا کے حوالے سے کہا”ہاکی سے پہلے، ہم اسکول میں کھو کھو کھیلتے تھے۔ مہاراشٹر میں یہ کھیل کافی مقبول ہے۔ ہمارے اساتذہ نے دیکھا کہ ہما ری دوڑ اچھی ہے اور اسٹیمنا بھی اچھا ہے ، اس لیے انہوں نے ہمیں ہاکی کھیلنے کی ترغیب دی۔ یہیں سے میرا ہاکی کا سفر شروع ہوا“۔

رتوجا نے آگے کہا”میں نے تقریباً 12 سال کی عمر میں ہاکی کھیلنا شروع کیا ۔پونے میں اپنی اکیڈمی میں داخلے کے لیے مجھے فٹنس اور اینڈیورینس کا ٹیسٹ دینا پڑا تھا۔ میں نے وہ ٹیسٹ پاس کیااور وہاں سے میرے ہاکی کیریئر کا آغاز ہوا۔“

ایک ایسے گاو¿ں سے آنے والے رتوجا کے لئے یہ سفر آسان نہیں تھا، جہاں لڑکیوں کا کھیلوں میں آگے آنا عام بات نہیں تھی۔

انہوں نے کہا، ”میرے گاو¿ں میں لڑکیوں کا ہاکی کھیلنا عام بات نہیں تھی۔ اس وقت، خاندان اس بارے میں تذبذب کا شکار تھے کہ بچوں کو کھیلنے کے لیے باہر بھیجنا چاہیے یا نہیں۔ لیکن گاو¿ں کے ایک کوچ نے ہمارا ساتھ دیا اور ہمیں آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔“

رتوجا نے پھر ریاستی اور قومی ٹورنامنٹس میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جونیئر خواتین کی ہاکی ٹیم میں جگہ حاصل کی۔ وہ 2023 میں خواتین کا جونیئر ایشیا کپ جیتنے والی ہندوستانی ٹیم کا بھی حصہ رہیں، جس کے بعد انہیں سینئرٹیم کے کیمپ میں موقع ملا۔

گزشتہ دوبرسوں سے رتوجا سینئر نیشنل کیمپ کا حصہ ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس سے ان کے کھیل میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جونیئر اور سینئر کیمپوں میں بہت سی مماثلتیں ہیں لیکن سینئر کھلاڑیوں کے ساتھ ٹریننگ کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں کیمپ میں رہنے سے میرے کھیل میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

مڈفیلڈ میں کھیلنے کے باوجود، سرکل کے اندر ان کی سمجھ اور موومنٹ، انہیں گول کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہے ۔سینئر ٹیم کے لیے 20 میچوں میں اب تک وہ سات گول کر چکی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ پہلے فارورڈ کے طور پربھی کھیل چکی ہیں۔

انہوں نے کہا، ”فی الحال میں ایک مڈفیلڈر کے طور پر کھیلتی ہوں، لیکن پہلے میں ایک فارورڈ کے طور پر اپنا رول ادا کرتی تھی۔ بعض اوقات ٹیموں میں ایک پوزیشن پر زیادہ کھلاڑی ہوتے ہیں اور دوسری پوزیشن میں کم، اس لیے ہمیں ٹیم کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے۔“

ٹیم کے موجودہ اہداف کے حوالے سے رتوجا نے کہا کہ فی الحال ہمارا اصل ہدف ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنا ہے۔ اس کے بعد ہمارا سب سے بڑا خواب لاس اینجلس اولمپکس میں کھیلنا ہے۔ ہم ہر بڑے ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی کرنا چاہتے ہیں اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔

اپنی ذاتی تیاری کے حوالے سے انہوں نے کہا، ”میری طاقت گول کرنا اور پنالٹی کارنرزبنوانا ہے، اس لیے میں اسی پر کام کر رہی ہوں۔ اس کے علاوہ گیند کو جلد حاصل کرنے اور ڈربلنگ کی رفتار بڑھانے پر بھی توجہ دے رہی ہوں۔ مجھے خود کو بہتر بنانا ہے اور مشکل حالات میں اپنے ساتھیوں کاساتھ دینا ہے ، تاکہ ٹیم مسلسل بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکے ۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande