
آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے خلاف مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر وادی کشمیر میں سخت پابندیاں
سرینگر، 6 مارچ (ہ س)۔ وادی کشمیر میں عوامی نقل و حرکت پر پابندیاں جمعہ کو مزید سخت کر دی گئیں۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے خلاف احتجاج کے لیے جمعہ کی نماز کے بعد مظاہرے شروع ہو سکتے ہیں۔ امریکہ اسرائیل کے مشترکہ حملے میں خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف مظاہروں کے ردعمل میں وادی میں مسلسل چھٹے دن زندگی درہم برہم رہی۔ یہ پابندیاں پیر کو اسرائیل۔ امریکہ کے حملے میں خامنہ ای کی موت پر احتجاج کے بعد عائد کی گئی تھیں۔ حالانکہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سول سوسائٹی کے نمائندوں اور مذہبی رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ کی تاکہ حالات کو معمول پر لانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔میٹنگ کے بعد عبداللہ نے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ میٹنگ کے بعد سے احتجاج کم ہو گئے ہیں اور امن و امان کے مسائل سے متاثر ہونے والے مقامات کی تعداد چند درجن سے کم ہو کر جمعرات کو 10 سے بھی کم رہ گئی ہے۔ حکومت نے ہفتہ تک تعلیمی ادارے بند کر دییے ہیں اور موبائل انٹرنیٹ کی رفتار کم کر دی ہے۔عہدیداروں نے بتایا کہ مظاہرین کے یکجا ہونے کو روکنے کے لئے صبح صویرے شہر بھر میں پولیس اور نیم فوجی سی آر پی ایف کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد کو تعینات کیا گیا تھا۔ شہر کی طرف جانے والے اہم چوراہوں پر خاردار تاریں اور رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔
وسطی کشمیر کے سری نگر کے لال چوک کو اتوار کی رات دیر گئے اس کے ارد گرد رکاوٹیں کھڑی کرکے سیل کرنے کے بعد شہر کا مشہور کلاک ٹاور ایک محدود علاقہ بنا ہوا ہے۔ یہ سیلنگ خامنہ ای کے قتل کے بعد اتوار کو کلاک ٹاور پر بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاج کے بعد کی گئی ہے۔ اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد کشمیر میں یہ اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والا پہلا احتجاج تھا۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Aftab Ahmad Mir