

ایم پی اردو اکادمی کے زیر اہتمام ادب، تہذیب اور قومی شعور کے موضوع پر مبنی دو روزہ قومی سیمینار کا اختتام
بھوپال، 06 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اردو اکادمی، سنسکرتی پریشد، محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام ’’قلم کی روشنی‘‘ کے تحت ’’ادب، تہذیب اور قومی شعور‘‘ کے موضوع پر دو روزہ قومی سیمینار کا اختتام 6 مارچ 2026 کو مہادیوی ورما ہال، ہندی بھون، پولی ٹیکنک چوراہا، بھوپال میں ہوا۔ دو روزہ قومی سیمینار ’’ادب، تہذیب اور قومی شعور‘‘ کے اختتام پر مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے کہا کہ اس سیمینار میں ہونے والے غور و خوض سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ادب کے ذریعے معاشرے میں مثبت اقدار کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح مشاعرے کی روایت پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس کے اصل ادبی وقار، زبان کی شائستگی اور ثقافتی شائستگی کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے، تاکہ یہ ثروت مند روایت اپنی اصل روح کے ساتھ آگے بڑھتی رہے۔
دلی سے تشریف لائے معروف ادیب پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں ترقیات نے انسانوں کو وہ تمام سہولیات مہیا کی ہیں جو وہم وگمان سے بالاتر ہے ، لیکن ان ترقیات اور سہولیات نے انسانوں سے انسانیت چھین لی ہے ۔ ایسے میں ایک صالح معاشرے کی تعمیر وتشکیل اور قومی ہم آہنگی کے فروغ اور انسانیت کی بقا کے لیے ادب ہی واحد ذریعہ ہے۔ مبارکباد پیش کرتا ہوں مدھیہ پردیش اردو اکادمی کو جس نے ان موضوعات پر سیمینار کا انعقاد کرکے انسان اور انسانیت سماج اور معاشرے کے روابط کو زندہ بھی کیا اور اس کے فروغ کے لیے راہیں ہموار کیں۔
لکھنو یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردو اور معروف ادیب و شاعر پروفیسر عباس رضا نیر نے مشاعروں کی تاریخی روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مشاعرے صرف شاعری کی پیشکش کی روایت نہیں، بلکہ سماج کے ثقافتی اور اخلاقی اقدار کے محافظ بھی رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عربی روایت میں مشاعرے میلے اور بازاروں میں منعقد ہوتے تھے، جبکہ فارسی ادب نے انہیں درباروں تک پہنچایا۔ آج اردو مشاعروں اور ہندی کوی سمیلنوں کی جو ثروت مند روایت نظر آتی ہے، وہ زبان، ثقافت اور قومی شعور کے زندہ روابط کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے امیر خسرو کے ایک مشہور واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ہندوستانی ثقافتی شعور اور لوک ثقافت کی جھلک ہماری شاعری اور شعری روایت میں صدیوں سے موجود رہی ہے۔
نوئیڈا سے تشریف لائیں ادیبہ و شاعرہ عذرا نقوی نے کہا کہ مشاعرہ محض تفریح کا پلیٹ فارم نہیں، بلکہ ایک زندہ ثقافتی مکالمہ ہے، جہاں شاعری کے ذریعے معاشرے کے جذبات، تجربات اور خواہشات کا اظہار ہوتا ہے۔ اچھے اشعار سامعین کے جذبات کی نمائندگی کرتے ہوئے زندگی کے بوجھ کو ہلکا کرنے اور حوصلہ دینے کا کام کرتے ہیں۔ اس نگاہ سے مشاعرے ادب، تہذیب اور سماجی شعور کی ترویج کا اہم ذریعہ ہیں۔
پروگرام کی نظامت کے فرائض بدر واسطی نے بحسن خوبی انجام دیے۔ اس موقع پر منتخب تخلیقات کی پیشکش ہوئی۔ پروگرام کے اختتام پر فاتحین کو انعامات سے نوازا گیا۔ مضامین مقابلے میں محمد انس کو اول، مصطفٰی سیفی اور اسد علی کو دوم، پروانہ برہانپوری اور شیرین خان کو سوم اور نمرہ صدیقی کو خصوصی انعامات سے نوازا گیا وہیں نظم/غزل مقابلے میں فاضل فیض کو اول، مجتبٰی شہروز کو دوم، فردوس رضا کو سوم اور دیپتی حنا کو خصوصی انعامات سے نوازا گیا۔
آخر میں ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے تمام مہمانان اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔اس طرح دو روزہ یہ قومی سیمینار ادب، تہذیب اور قومی شعور کے مختلف پہلوؤں کو واضح کرتے ہوئے اردو زبان و ادب کے ثقافتی کردار کو مستحکم کرنے کی سمت میں ایک بامقصد پہل ثابت ہوا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن