جموں و کشمیر میں آئندہ پنشن اخراجات کا بوجھ دوگنا ہو جائے گا۔
جموں, 06 مارچ (ہ س)۔ جموں و کشمیر حکومت کے پنشن اخراجات آئندہ برسوں میں نمایاں طور پر بڑھنے کا امکان ہے اور اندازہ ہے کہ 2020 سے 2030 کے درمیان دس برسوں میں پنشن کا بوجھ تقریباً دوگنا ہو جائے گا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت تقریباً 2.48
Pension


جموں, 06 مارچ (ہ س)۔

جموں و کشمیر حکومت کے پنشن اخراجات آئندہ برسوں میں نمایاں طور پر بڑھنے کا امکان ہے اور اندازہ ہے کہ 2020 سے 2030 کے درمیان دس برسوں میں پنشن کا بوجھ تقریباً دوگنا ہو جائے گا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت تقریباً 2.48 لاکھ ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن اور الاؤنس ادا کیے جا رہے ہیں۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ پرانی پنشن اسکیم (او پی ایس) کو دوبارہ نافذ کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے کیونکہ طویل مدت میں یہ مالی طور پر قابلِ برداشت نہیں ہوگی اور اس سے مالی استحکام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

سرکاری جواب کے مطابق سال 2020-21 میں ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن کی مد میں 5,829 کروڑ روپے ادا کیے گئے تھے، جبکہ اندازہ ہے کہ یہ رقم بڑھ کر سال 2030-31 تک 11,798 کروڑ روپے تک پہنچ جائے گی۔

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پنشن اخراجات میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سال 2021-22 میں یہ رقم 6,668 کروڑ روپے، 2022-23 میں 7,463 کروڑ روپے، 2023-24 میں 8,364 کروڑ روپے، 2024-25 میں 9,350 کروڑ روپے جبکہ 2025-26 میں 9,127 کروڑ روپے رہی۔حکام کے مطابق آئندہ برسوں میں مزید ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے باعث پنشن اخراجات میں اضافہ جاری رہنے کا امکان ہے اور اندازہ ہے کہ 2030-31 تک یہ رقم تقریباً 11,798 کروڑ روپے تک پہنچ جائے گی۔

حکام نے بتایا کہ پنشن کا بڑھتا ہوا بوجھ غالباً 2040 کی دہائی کے اوائل تک جاری رہے گا، جس کے بعد اس میں استحکام آنا شروع ہو جائے گا کیونکہ پرانی پنشن اسکیم کے تحت آنے والے زیادہ تر ملازمین اس وقت تک ریٹائر ہو چکے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ سال 2010 میں نئی پنشن اسکیم (این پی ایس) کے نفاذ سے پنشن کا ایک زیادہ پائیدار نظام قائم ہوا ہے جس میں فنڈ کے مؤثر انتظام کی گنجائش موجود ہے، جبکہ پرانی پنشن اسکیم میں کوئی مخصوص پنشن فنڈ نہیں تھا۔حکام کے مطابق جموں و کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جہاں اخراجات زیادہ اور آمدنی کے ذرائع محدود ہیں، جس کے باعث ماضی میں پنشن کی ذمہ داریوں میں غیر متناسب اضافہ ہوا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پنشن اخراجات 2004-05 میں 731 کروڑ روپے تھے جو بڑھ کر 2009-10 میں 1,495 کروڑ روپے تک پہنچ گئے تھے۔حکومت نے 2009 میں کابینہ کے فیصلے کے بعد یکم جنوری 2010 سے تعینات ہونے والے تمام سرکاری ملازمین کے لیے پرانی پنشن اسکیم کی جگہ نئی شراکتی پنشن اسکیم (این پی ایس) نافذ کی تھی، جس کے لیے جموں و کشمیر سول سروس ریگولیشنز میں ترمیم بھی کی گئی تھی۔حکام کا کہنا ہے کہ حکومت پرانی پنشن اسکیم کے تحت اہل پنشنرز سے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز پر اس کا منفی اثر نہ پڑے۔ توقع ہے کہ جب 2040 کے آس پاس پنشن اخراجات مستحکم ہو جائیں گے تو ترقیاتی شعبے کے لیے زیادہ وسائل دستیاب ہو سکیں گے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande