
کسانوں، نوجوانوں اور خواتین کے لیے نئی اسکیمیں
ممبئی ، 06 مارچ (ہ س) مہاراشٹر حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے اپنا جامع ریاستی بجٹ پیش کر دیا ہے جس میں زراعت، تعلیم، صحت، دیہی ترقی، بنیادی ڈھانچے، ثقافت، نوجوانوں، میڈیا، ماحولیات اور سماجی بہبود سمیت مختلف شعبوں کے لیے بڑے پیمانے پر رقوم مختص کی گئی ہیں۔ وزیر خزانہ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کو 2047 تک ایک خوشحال، صنعتی اور زرعی طور پر مضبوط مہاراشٹر بنانے کے لیے طویل مدتی روڈ میپ تیار کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت سرمایہ کاری بڑھانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور کسانوں، مزدوروں، خواتین، نوجوانوں اور پسماندہ طبقات کی فلاح پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
بجٹ میں مالی نظم و ضبط کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے آمدنی میں اضافہ اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔ 30 ستمبر 2025 تک ریاستی خزانے کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد تقریباً دو ہزار کروڑ روپے کے آمدنی خسارے کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ تیار کیا گیا ہے۔ حکومت نے محصولات کی وصولی بہتر بنانے، ڈیجیٹل نگرانی بڑھانے اور مالیاتی اصلاحات کے ذریعے ریاستی معیشت کو مستحکم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے یہ بھی اعلان کیا کہ مالی سال 2026-27 کے دوران ریاستی خزانے کی مدد کے لیے ایک خصوصی مالیاتی اسکیم چار قسطوں میں نافذ کی جائے گی۔ اس اسکیم کے تحت مختلف محکموں کے منصوبوں کے لیے الگ الگ مالی وسائل فراہم کیے جائیں گے جبکہ 5 مئی تک خصوصی گرانٹس جاری کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ ریاست بھر میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے یکم جنوری سے 31 دسمبر 2026 تک کا ایک جامع کیلنڈر بھی تیار کیا گیا ہے جس کے مطابق ہر ضلع میں ترجیحی بنیادوں پر اسکیمیں نافذ ہوں گی۔
بجٹ میں بتایا گیا کہ ریاست پر قرضوں اور واجبات کا بوجھ قابل ذکر سطح پر ہے، اس لیے محصولات میں اضافہ اور مالی نظم کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔ حکومت نے اسٹامپ ڈیوٹی، رجسٹریشن، جی ایس ٹی، ایکسائز اور موٹر گاڑی ٹیکس کی وصولی میں بہتری لانے کے لیے جدید نگرانی اور لیکیج روکنے کے اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران مختلف شعبوں میں 15,492 کروڑ روپے سے زائد اضافی وصولی کا ہدف رکھا گیا تھا جس میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور آئندہ سال کے لیے اس سے بھی زیادہ محصولات کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔روزگار اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے بجٹ میں صنعتی ترقی پر بھی خاص توجہ دی گئی ہے۔ چھوٹے، درمیانے اور بڑے صنعتی یونٹس کی حوصلہ افزائی، سرمایہ کار دوست پالیسی، سنگل ونڈو نظام اور صنعتی کوریڈور کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکومت نے 2047 تک ریاستی جی ڈی پی اور صنعتی پیداوار کو دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے نئے صنعتی کلسٹر، ایکسپورٹ پروموشن زون، اسٹارٹ اپ انکیوبیشن سینٹر اور ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن فنڈ متعارف کرائے جائیں گے۔
سیاحت، ہاسپٹلٹی، فلم، میڈیا اور آئی ٹی شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے خصوصی مراعات بھی دی جائیں گی جن میں ٹیکس میں چھوٹ، بنیادی ڈھانچے کی سہولتیں اور زمینوں کی الاٹمنٹ شامل ہیں۔ حکومت نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 94,968 کروڑ روپے کے پروجیکٹس کا خاکہ بھی پیش کیا ہے۔زراعت کے شعبے میں کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے متعدد اسکیمیں شامل کی گئی ہیں۔ ٹپک آبپاشی، اسپرنکلر سسٹم، مائیکرو اریگیشن، مٹی کی صحت کارڈ، فصل بیمہ اور زرعی مشینری پر سبسیڈی جیسے پروگراموں کے لیے بڑی رقم مختص کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کسان کریڈٹ کارڈ کے دائرے کو وسیع کرنے، فصل کے نقصان پر فوری معاوضہ فراہم کرنے اور زرعی مارکیٹنگ کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے خصوصی فنڈ قائم کیا گیا ہے۔
دیہی ترقی کے لیے گرام پنچایتوں میں سڑکوں، پانی، صفائی، اسٹریٹ لائٹس، دیہی بازار، منڈیوں اور کمیونٹی ہال کی تعمیر کے لیے گرانٹس فراہم کی جائیں گی تاکہ دیہی علاقوں میں بنیادی سہولتیں بہتر بنائی جا سکیں۔انفراسٹرکچر کے شعبے میں ریاستی شاہراہوں، پلوں، فلائی اوورز اور دیہی سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے لیے ہزاروں کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ شہری علاقوں میں میٹرو، ماس ٹرانزٹ سسٹم، پانی و سیوریج منصوبے، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور اسمارٹ سٹی پروجیکٹس کے لیے بھی علیحدہ فنڈ رکھا گیا ہے۔تعلیم کے شعبے میں پرائمری سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک جامع پروگرام متعارف کرائے گئے ہیں۔ 27 لاکھ سے زائد طلبہ کو کتابیں، یونیفارم، اسکالرشپ اور دیگر سہولتیں فراہم کی جائیں گی جبکہ 25 لاکھ سے زیادہ طلبہ کو نئی تعلیمی اسکیموں کے دائرے میں لانے کا منصوبہ ہے۔ اسکولوں کی عمارتوں کی مرمت، ڈیجیٹل کلاس روم، لیبارٹری، لائبریری اور کھیل کے میدانوں کی سہولتیں بھی بڑھائی جائیں گی۔
صحت کے شعبے میں سرکاری اسپتالوں، میڈیکل کالجوں اور پرائمری ہیلتھ سنٹروں کو مضبوط بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈ فراہم کیا گیا ہے۔ مختلف اضلاع میں نئے میڈیکل کالج اور خصوصی اسپتال قائم کیے جائیں گے جبکہ آئی سی یو، ڈائیلسس یونٹ اور جدید طبی مشینری کی فراہمی بھی شامل ہے۔سماجی انصاف کے تحت درج فہرست ذاتوں، قبائل، او بی سی، ویمکت جاتی، نومادی قبائل، معذور افراد اور بزرگ شہریوں کے لیے مختلف فلاحی اسکیموں کا اعلان کیا گیا ہے۔ خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس، چھوٹے کاروبار اور ہنر مندی پروگراموں کے لیے بھی مالی مدد فراہم کی جائے گی جبکہ لڑکیوں کی تعلیم اور تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔اقلیتی برادریوں کے لیے تعلیمی اسکالرشپ، کوچنگ، ہاسٹل اور پیشہ ورانہ کورسز کی اسکیموں میں توسیع کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ مسلم، سکھ، عیسائی، بدھ، جین اور دیگر اقلیتوں کی تعلیمی و معاشی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
بجٹ میں ثقافت، آرٹ، سیاحت اور کھیل کے شعبوں کے لیے بھی اہم اعلانات شامل ہیں۔ ریاست کی ثقافتی وراثت کے تحفظ، لوک فنون کی ترویج، سیاحتی مقامات کی ترقی اور نوجوانوں کے لیے اسپورٹس انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی فنڈ مختص کیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے