نیپال میں پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری
نیپال میں پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری کٹھمانڈو، 05 مارچ (ہ س)۔ نیپال میں آج پارلیمانی انتخابات کے لیے حق رائے دہی صبح 7 بجے شروع ہوئی۔ 275 نشستوں کے لیے ووٹنگ شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔ 165 نشستیں براہ راست انتخاب اور 110 نشستیں متناسب نم
علامتی تصویر


نیپال میں پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری

کٹھمانڈو، 05 مارچ (ہ س)۔ نیپال میں آج پارلیمانی انتخابات کے لیے حق رائے دہی صبح 7 بجے شروع ہوئی۔ 275 نشستوں کے لیے ووٹنگ شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔ 165 نشستیں براہ راست انتخاب اور 110 نشستیں متناسب نمائندگی کے نظام سے بھری جائیں گی۔ الیکشن کمیشن کے قائم مقام چیف الیکشن کمشنر رام پرساد بھنڈاری نے ووٹروں سے بلا خوف و خطر ووٹ ڈالنے کی اپیل کی ہے۔ نیپال کا وقت ہندوستان سے 15 منٹ آگے ہے۔

نیپال میں یہ انتخابات گزشتہ سال ہونے والی ’’جین-زی‘‘ تحریک کے بعد ہو رہے ہیں۔ ستمبر 2025 میں ہونے والی اس تحریک کے دوران نیپال میں بڑے پیمانے پر تشدد ہوا تھا۔ اس واقعہ کے بعد ملک کی سیاسی سمت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ جین-زی تحریک کے بعد اس وقت کے وزیراعظم کے پی شرما اولی کی حکومت گر گئی تھی۔ اس کے بعد عبوری وزیراعظم کے طور پر سشیلا کارکی نے قیادت سنبھالی۔ اس حکومت نے سیاسی استحکام کی بحالی اور جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کے لیے انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا۔

نیپال کے الیکشن کمیشن کے مطابق، ان انتخابات میں 1 کروڑ 89 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ ان میں تقریباً 96 لاکھ 60 ہزار مرد اور 92 لاکھ 40 ہزار خواتین شامل ہیں۔ براہ راست انتخابی نظام کے تحت 3,406 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں، جبکہ متناسب نمائندگی کے نظام کے لیے 3,135 امیدواروں کی فہرست جاری کی گئی ہے۔

قائم مقام چیف الیکشن کمشنر بھنڈاری نے بتایا کہ متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت ووٹوں کی گنتی، جس سے 110 نشستوں کی تقسیم کا فیصلہ ہوتا ہے، اس میں دو سے تین دن زیادہ لگ سکتے ہیں۔ اگر کمیشن اس وقت کی حد پر عمل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ انتخابی نتائج کے اعلان کے حوالے سے ملک کی تاریخ میں ایک اہم تبدیلی ہوگی۔ نیپال میں 2022 کے گزشتہ عام انتخابات کے دوران، حکام کو مکمل اور حتمی نتائج شائع کرنے میں دو ہفتے سے زیادہ کا وقت لگا تھا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande