
اسپین نے امریکی فوج کے ساتھ تعاون پر رضامندی ظاہر کی، ٹریڈ پابندی کی ڈونالڈ ٹرمپ کی وارننگ کے بعد بدلے اشارے
واشنگٹن/میڈرڈ، 05 مارچ (ہ س)۔ ایران پر امریکی-اسرائیلی حملوں کو لے کر اختلافات کے درمیان اسپین نے امریکی فوج کے ساتھ تعاون کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ یہ معلومات وائٹ ہاوس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے بدھ کے روز دی ہے۔ لیویٹ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اسپین نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے پیغام کو ’’واضح طور پر‘‘ سنا ہے اور گزشتہ کچھ گھنٹے میں امریکی فوج کے ساتھ تعاون کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے۔ ایک دن پہلے ڈونالڈ ٹرمپ نے میڈرڈ پر تجارتی پابندیاں عائد کرنے کی وارننگ دی تھی۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ اگر اسپین نے تہران کے خلاف فوجی مہم میں جنوبی اسپین میں واقع مشترکہ بحری اور فضائی اڈوں کے استعمال کی اجازت نہیں دی، تو وہ تجارتی تعلقات پر نظر ثانی کر سکتے ہیں۔ اسپین نے امریکی اور اسرائیلی بمباری کی تنقید کرتے ہوئے اسے ’’لاپرواہ اور غیر قانونی‘‘ قرار دیا تھا۔ نائب وزیر اعظم ماریہ جیسس مونٹیرو نے کہا کہ اسپین ’’کسی بھی ملک کا ماتحت نہیں بنے گا۔‘‘ وہیں وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے قوم کے نام خطاب میں جنگ مخالف موقف دہراتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ تنازعہ عالمی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباو اور ممکنہ معاشی نتائج کو دیکھتے ہوئے اسپین نے اپنے رویے میں نرمی دکھائی ہے، تاہم میڈرڈ نے باضابطہ طور پر اپنے جنگ مخالف موقف سے پیچھے ہٹنے کا اعلان نہیں کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن