
حیدرآباد، 04 مارچ (ہ س)۔ تلنگانہ میں آئندہ ماہ سے شروع ہونے والے فہرست رائے دہندگان پر خصوصی نظر ثانی پروگرام پر عہدیداروں نے توجہ مرکوز کی ہے۔ گریٹر حیدرآباد حدود میں تجرباتی طور پر فہرست رائے دہندگان کی جانچ کا کام شروع کیا گیا۔ بوتھ لیول آفیسرس کی جانب سے گھر گھر پہونچ کر ناموں کی جانچ کی جا رہی ہے۔ فہرست رائے دہندگان میں خامیوں کو درست کرنے اور ایک سے زائد ناموں کو حذف کرنے کے مقصد سے الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ملک بھر میں ایس آئی آر مہم کا فیصلہ کیا ہے۔ تلنگانہ الیکٹورل آفس نے ایس آئی آر مہم کے سلسلہ میں تمام محکمہ جات کو گائیڈ لائنس جاری کئے ہیں ۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے الیکشن ونگ کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں گھر گھر پہونچ کر 2002ء اور 2025ء کی فہرست رائے دہندگان کا تقابلی طور پر جائزہ لیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد میں کئی ہزار نام ایسے پائے گئے جو ایک سے زائد مقامات پر درج ہیں۔ ایسے رائے دہندوں کو الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹس جاری کی جائے گی۔ 2002ء کی فہرست رائے دہندگان میں نام شامل رہنے پر اِس کی 2025ء کی فہرست سے تصدیق کرتے ہوئے ناموں کو برقرار رکھا جائے گا۔ گریٹر حیدرآباد کی ابتدائی مہم کے دوران ایک سے زائد مقامات پر ناموں کی موجودگی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے عوام کے لئے 11 مختلف شناختی دستاویزات کی گنجائش فراہم کی ہے۔ ابتدائی سروے میں پتہ چلا ہے کہ 2002ء کی فہرست رائے دہندگان میں موجود 50 فیصد رائے دہندے موجودہ پتہ پر دستیاب نہیں ہیں۔ بعض مقامات پر 30 فیصد ووٹر دیگر علاقوں کو منتقل ہوچکے ہیں۔ تلنگانہ میں جملہ 83.04 لاکھ خاندان ہیں۔ بوتھ لیول آفیسرس نے گریٹر حیدرآباد میں نوٹس کی اجرائی کیلئے تقریباً 2 ہزار ووٹرس کی نشاندہی کی ہے جن کے نام ایک سے زائد مقامات پر پائے گئے۔۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق