
مدھیہ پردیش میں گرمی کا اثر تیز ہوا، مالوا-نماڑ میں زیادہ اثر، 35 اضلاع میں پارہ 33 ڈگری سے تجاوز
بھوپال، 04 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں مارچ کے آغاز کے ساتھ ہی گرمی نے رفتار پکڑ لی ہے۔ خاص طور پر مالوا-نماڑ خطے میں دن کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ منگل کے روز ریاست کے 35 اضلاع میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 ڈگری سیلسیس سے اوپر درج کیا گیا۔ سب سے زیادہ گرمی دھار، نرمدا پورم، کھرگون، کھنڈوا اور رتلام میں رہی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، آج ہولی کے دن پوری ریاست میں تیز دھوپ کھلی رہے گی۔ بارش یا بادل چھانے کا امکان نہیں ہے۔ بھوپال، اندور، گوالیار اور اجین میں درجہ حرارت 35 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کرسکتا ہے۔ آنے والے چار دنوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 2 سے 4 ڈگری سیلسیس تک بڑھنے کا اندازہ ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مارچ کے پہلے پکھواڑے میں ہی کچھ علاقوں میں پارہ 40 ڈگری تک پہنچ سکتا ہے۔ حالانکہ، ایک ویسٹرن ڈسٹربنس کے فعال ہونے سے ہلکی بارش کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
درجہ حرارت کی بات کریں تو منگل کو دھار میں 35.9 ڈگری سیلسیس، نرمدا پورم میں 35.4 ڈگری، کھرگون میں 35.2 ڈگری، کھنڈوا میں 35.1 ڈگری اور رتلام میں 35 ڈگری درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ بھوپال، اندور، گوالیار، اجین، جبل پور، شاجاپور، گنا، ٹیگم گڑھ، دموہ، ساگر، ستنا، منڈلا، چھترپور، سیونی، امریا، سیدھی، نرسنگھ پور، چھندواڑہ اور رائسین سمیت کئی اضلاع میں پارہ 33 ڈگری سیلسیس یا اس سے زیادہ رہا۔
صرف دن ہی نہیں، رات کے درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جبل پور، ساگر، سیونی، ٹیکم گڑھ، نرسنگھ پور، گنا، دھار، نرمدا پورم، کھنڈوا، کھرگون، رتلام اور شیوپور میں کم سے کم درجہ حرارت 16 ڈگری سیلسیس یا اس سے اوپر درج کیا گیا۔ دھار میں 18.5 ڈگری، نرمدا پورم میں 18.4 ڈگری اور کھنڈوا میں 18 ڈگری سیلسیس کم سے کم درجہ حرارت ریکارڈ ہوا۔
موسمیاتی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مارچ میں لو چلنے کا امکان نہیں ہے۔ حالانکہ اپریل اور مئی میں 15 سے 20 دنوں تک ہیٹ ویو کا اثر رہ سکتا ہے۔ محکمے کا کہنا ہے کہ مغربی ہمالیائی خطے میں ایک نیا ویسٹرن ڈسٹربنس فعال ہو رہا ہے، جو 6 مارچ سے اثر دکھائے گا۔ اس کے بعد دو سے تین دن کے اندر ریاست کے کچھ حصوں میں موسم میں تبدیلی ممکن ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن