آسام میں کانگریس کی پہلی فہرست پر اقربا پروری کا الزاز، پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی ناراضگی
گوہاٹی، 4 مارچ (ہ س)۔ آسام پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے 42 امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کیے جانے کے بعد پارٹی کے اندر اقربا پروری کا تنازع مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ الزام ہے کہ فہرست میں شامل آٹھ امیدوار کانگریس کے
آسام میں کانگریس کی پہلی فہرست پر اقربا پروری کا الزاز، پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی ناراضگی


گوہاٹی، 4 مارچ (ہ س)۔

آسام پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے 42 امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کیے جانے کے بعد پارٹی کے اندر اقربا پروری کا تنازع مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ الزام ہے کہ فہرست میں شامل آٹھ امیدوار کانگریس کے قائم کردہ لیڈروں کے بیٹے یا بیٹیاں ہیں۔ جس کی وجہ سے کئی اسمبلی حلقوں میں عدم اطمینان ہے۔

پارٹی کے اندر اور باہر ناقدین کا کہنا ہے کہ کانگریس ابھی تک خاندانی روایات سے پوری طرح آزاد نہیں ہوئی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ جس طرح نہرو-گاندھی خاندان طویل عرصے سے قومی سطح پر قیادت پر حاوی رہا ہے، اسی طرح آسام میں بھی سیاسی خاندانوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

کئی مقامی رہنماو¿ں نے کھل کر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ برسوں سے نچلی سطح پر کام کرنے والے عام کارکنوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور ٹکٹوں کی تقسیم میں بااثر سیاسی پس منظر رکھنے والوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ بعض اسمبلی حلقوں میں اندرونی عدم اطمینان کی بھی خبریں آئی ہیں۔

ادھر پارٹی کے اندر استعفوں کی لہر شروع ہو گئی ہے۔ سلچر سے کانگریس کے سینئر لیڈر سنجیو رائے نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس سے انتخابات سے پہلے کی تنظیمی صورتحال مزید چیلنجنگ بن گئی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر پارٹی قیادت نے اس اندرونی اختلاف کو بروقت دور نہ کیا تو اس کے اثرات آئندہ انتخابات میں بھی محسوس ہو سکتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande