دبئی میں امریکی قونصل خانے پر ایران کا ڈرون حملہ؛ احاطے میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا، عملہ محفوظ
دبئی، 04 مارچ (ہ س)۔ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی میں اس کے اعلیٰ رہنما آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد، ایران کی اسپیشل فورسز (سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی) پورے مغربی ایشیا میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ایران کی جانب سے منگل
DUBAI-US-CONSULATE-IRAN-DRONE-ATTACK


دبئی، 04 مارچ (ہ س)۔ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی میں اس کے اعلیٰ رہنما آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد، ایران کی اسپیشل فورسز (سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی) پورے مغربی ایشیا میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ایران کی جانب سے منگل کی رات دبئی میں واقع امریکی قونصل خانے کے قریب ڈرون سے حملہ کیا جس سے احاطے میں آگ لگ گئی۔ اس سے قبل پیر اور منگل کو کویت اور ریاض میں امریکی سفارت خانوں پر بھی حملے کیے گئے تھے۔

خلیج ٹائمز نے دبئی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ ڈرون سے متعلقہ واقعے کی وجہ سے لگنے والی آگ مکمل طور پر بجھا دی گئی ہے۔ یہ واقعہ شہر میں امریکی قونصل خانے کے قریب پیش آیا۔ حکام نے بتایا کہ ہنگامی عملہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچا اور کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی واشنگٹن میں دبئی میں ڈرون حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سفارت خانے کا تمام عملہ محفوظ ہے۔قبل ازیں منگل کی صبح ریاض میں امریکی سفارت خانے پر دو ڈرون سے حملہ کیا گیا۔ پیر کو کویت میں امریکی سفارت خانے پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔

متحدہ عرب امارات کے اسٹیٹ سیکورٹی حکام کے مطابق ،جارحیت کے آغاز سے اب تک ایران کی جانب سے داغے گئے 186 بیلسٹک میزائلوں کا پتہ لگایا ہے اور ان میں سے 172 کو تباہ کر دیا گیا ہے، جن میں سے 13 سمندر میں گرے اور ایک ملک کی سر حدپر گرا۔ اس کے علاوہ ، 812 ایرانی ڈرون کا پتہ لگایا گیا ہے، جن میں سے 755 کو روکا گیا اور 57 ملکی سرحدوں پر گرے ۔ اس کے علاوہ، 8 کروز میزائلوں کا پتہ لگا کر انہیں تباہ کیا گیا، جس سے کچھ جانی نقصان ہوا اور پاکستانی، نیپالی اور بنگلہ دیشی شہری مارے گئے۔ ان حملوں میں امارات، مصر، ایتھوپیا، فلپائنی، پاکستان، ایران، ہندوستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، آذربائیجان، یمن، یوگنڈا، اریٹیریا، لبنان اور افغانستان کے 68 شہری زخمی ہوئے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande