
ریاض،31مارچ(ہ س)۔ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ ایران میں افزودہ یورینیم کے بغیر جنگ کا خاتمہ ایک سنگین ناکامی کے مترادف ہوگا۔اس نے مزید کہا کہ ’تل ابیب فی الحال جنگ ختم نہیں کرنا چاہتا کیونکہ وہ ایک مکمل فتح کی تلاش میں ہے، جو صرف ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خاتمے کے ذریعے ممکن ہے، اور یہ ایک نہایت پیچیدہ معاملہ ہے۔‘یہ بات اسرائیل کی چینل 12 نے نقل کی ہے۔ایک اور اسرائیلی ذریعے نے وضاحت کی کہ ایرانی جوہری فائل اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیار میں ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے اندر تقریباً 1000 پاو¿نڈ افزودہ یورینیم حاصل کرنے کے لیے ایک خاص فوجی آپریشن پر غور کر رہے ہیں، جیسا کہ امریکی اہلکاروں نے انکشاف کیا ہے۔اہلکاروں کے مطابق ٹرمپ اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ امریکی فوج کو اس کارروائی میں کس حد تک خطرہ ہو سکتا ہے، تاہم وہ عمومی طور پر اس خیال کے لیے کھلے ہیں کیونکہ یہ ان کے بنیادی مقصد یعنی ایران کو کبھی جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ایک باخبر ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو ایران پر دباو¿ ڈالنے کی ہدایت کی ہے تاکہ وہ جنگ کے خاتمے کے بدلے اس مواد کی سپلائی پر راضی ہو جائیں۔انہوں نے اپنے سیاسی حلیفوں کے ساتھ بات چیت میں یہ بھی واضح کیا کہ ایرانی اس مواد کو نہیں رکھ سکتے اور اگر ایران مذاکرات کے ذریعے اسے دینے سے انکار کرے تو اس پر زبردستی قبضہ کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے پچھلے سال جون (2025) میں ایران پر فضائی حملوں سے قبل خیال کیا جاتا تھا کہ تہران کے پاس تقریباً 400 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود تھا اور تقریباً 200 کلوگرام 20 فیصد افزودہ تقسیم شدہ مواد بھی تھا۔یہ مواد آسانی سے 90 فیصدافزودہ یورینیم میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جو براہِ راست ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے جنرل ڈائریکٹر رافائل گروسی نے بتایا کہ ان کا خیال ہے کہ افزودہ یورینیم بنیادی طور پر دو مقامات پر موجود ہے، جو گزشتہ سال جون میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نشانے پر تھے۔ یہ مقامات ہیں:اصفہان کے جوہری کمپلیکس میں زیرِ زمین ایک سرنگ جبکہ نطنز میں ایک اسٹوریج ہال ہے۔ایک باخبر شخص نے بتایا کہ ٹرمپ نے نجی اجلاسوں میں کہا کہ یہ مواد ایک دقیق اور محدود وقت والا آپریشن کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے، جو جنگ کے دورانیے کو زیادہ طویل نہیں کرے گا اور امریکہ کو امکان ہے کہ وہ تنازعہ کو اپریل کے وسط تک ختم کر سکے، جیسا کہ وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا۔ساتھ ہی سابق امریکی فوجی افسران اور ماہرین نے خبردار کیا کہ یورینیم پر زبردستی قبضہ کرنا ایک نہایت پیچیدہ اور خطرناک آپریشن ہوگا اور یہ شاید ٹرمپ کی سب سے مشکل فوجی ہدایات میں سے ایک ہو۔ان کے مطابق اس ممکنہ کارروائی کے دوران ایران کی جانب سے سخت ردعمل متوقع ہے، جس سے جنگ کا دورانیہ بڑھ سکتا ہے، جو ٹرمپ کی پہلے سے مقرر کردہ 4 سے 6 ہفتوں کی حد سے تجاوز کر سکتا ہے۔عملی پہلوو¿ں کے مطابق امریکی فورسز کو ان مقامات تک پہنچنے کے لیے جہاں غالباً ایرانی میزائل اور ڈرونز موجود ہوں، فضائی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔موقع پر پہنچنے کے بعد فوج کو اردگرد کا محاصرہ قائم کرنا ہوگا تاکہ انجینئرز ملبہ ہٹانے، بارودی سرنگوں اور دیگر خطرناک چیزوں کی جانچ کر سکیں۔اس کے علاوہ افزودہ یورینیم نکالنے کے لیے خصوصی تربیت یافتہ ایلیٹ فورسز کو تعینات کرنا پڑے گا تاکہ وہ جنگ زدہ علاقوں سے تابکار مواد محفوظ طریقے سے نکال سکیں۔امکان ہے کہ یہ مواد 40 سے 50 خصوصی سلنڈروں میں محفوظ ہو، جو عام طور پر غوطہ خور سلنڈروں کی طرح ہوں، اور انہیں محفوظ ٹرانسپورٹ کنٹینرز میں منتقل کرنا پڑے گا، جس کے لیے کئی ٹرک درکار ہو سکتے ہیں، جیسا کہ کولمبیا یونیورسٹی کے سینئر محقق اور سابق امریکی ایرانی جوہری مذاکرات کار رچرڈ نیویو نے بتایا۔اگر کسی وجہ سے ایئر سٹرپ دستیاب نہ ہو، تو ایک عارضی لینڈنگ اسٹریک قائم کرنا پڑے گا تاکہ آلات لائے جا سکیں اور جوہری مواد نکالا جا سکے۔ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ یہ پورا آپریشن چند دنوں یا ایک ہفتے تک جاری رہ سکتا ہے۔ سابق امریکی جنرل جوزف فوٹیل جو امریکی سینٹرل کمانڈ اور اسپیشل آپریشنز کمانڈ کے سابق کمانڈر ہیں، نے کہا:یہ کوئی فوری کارروائی نہیں جس میں بس داخل ہوں اور فوراً نکل آئیں۔دوسری جانب اگر ایران یورینیم کی سپلائی پر رضامند ہو اور اسے امن معاہدے کے حصے کے طور پر دے دے، تو امریکی فورسز کو اس خطرناک آپریشن سے بچا جا سکتا ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan