
نئی دہلی، 28 مارچ (ہ س)۔ دہلی کے جنوب مغربی ضلع کی سائبر تھانہ پولیسنے سرمایہ کاری کے نام پر دھوکہ دہی کی سرگرمیوں میں ملوث ایک منظم گروہ کا پردہ فاش کیا ہے اور پانچ ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ ملزمین کی شناخت شریدھر دلیپ انگلے (25)، آرچریان گورکش کامبلے (21)، عزیز میران شیخ (25)، پرنو جالندر گلدگڑ (24) اور وشال درگاداس باچل (25) کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے ان کے قبضے سے چھ موبائل فون اور 35 بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات برآمد کی ہیں، جن کا فراڈ میں استعمال کیا جا رہا تھا۔
ساؤتھ ویسٹ ڈسٹرکٹ کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس امت گوئل نے ہفتے کے روز کہا کہ اروناچل پردیش کا ایک شخص ، جو اس وقت دہلی میں مقیم ہے، نے 4 ستمبر 2025 کو ایک شکایت درج کرائی، جس میں الزام لگایا گیا کہ اسے ”نیکسٹ بلین ٹیکنالوجی پرائیویٹ لمیٹڈ“ نامی فرضی کمپنی کے ذریعے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے کا لالچ دیا گیا۔ ملزم خاتون اور اس کے ساتھیوں نے اسے زیادہ منافع کا وعدہ کرکے 12,22,670 کی سرمایہ کاری کا لالچ دیا۔ بعد میں، کمپنی فرضی نکلی اور شکایت کنندہ کو احساس ہوا کہ اسے دھوکہ دیا گیا ہے۔
ای ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی۔ تفتیش کے دوران، تکنیکی تجزیہ اور بینک ٹرانزیکشن کی تفصیلات سے مہاراشٹر میں ملزمین سے روابط کا انکشاف ہوا۔ پولیس کی ایک ٹیم نے مہاراشٹر کے شری رام پور میں چھاپہ مارا اور مرکزی ملزم سریدھر کو گرفتار کر لیا۔ اس کی اطلاع کے بعد دیگر چار ملزمان کو بھی مختلف مقامات سے گرفتار کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس کے مطابق، تفتیش کے دوران ملزمان نے انکشاف کیا کہ وہ کمیشن کے عوض ”میولبینک اکاو¿نٹس“ فراہم کراتے تھے۔ یہ اکاؤنٹس سائبر فراڈ گروہوں کو فراہم کیے جاتے تھے، جن کے ذریعہ ملک بھر میں لوگوں کے ساتھ ٹھگی کی جاتی تھی۔ اس نیٹ ورک کا ایک رکن دبئی میں مقیم بتایا جا رہاہے اور اس نے ان اکاؤنٹس کو فراڈ شدہ رقوم کی منتقلی کے لیے استعمال کیا۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمان کے بینک اکاؤنٹس سے کئی کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں اور اس گینگ سے ملک بھر میں 18 سے زائد شکایات منسلک ہیں۔ پولیس معاملے کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد