
چھندواڑہ میں زہریلا گوشت کھانے سے شیر کی موت، چار ملزمان گرفتار
چھندواڑہ، 28 مارچ (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے ضلع چھندواڑہ میں شیر کی موت کا چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ستپوڑا ٹائیگر ریزرو سے بھٹکے ہوئے ایک شیر کی زہریلا گوشت کھانے سے موت ہوگئی۔ محکمہ جنگلات نے اس معاملے میں چار ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ محکمہ جنگلات کے مطابق، مغربی فاریسٹ ڈویژن کے تحت سانگا کھیڑا رینج میں 27 مارچ کو سرچنگ کے دوران ایک مردہ مویشی (بیل) کی لاش ملی، جس سے شیر کے شکار کا شبہ ہوا۔ ڈاگ اسکواڈ کی مدد سے آس پاس تلاشی لینے پر کچھ فاصلے پر زمین میں دفن شیر کی لاش برآمد کی گئی۔
جانچ کے دوران مردہ مویشی کے مالک ادے سنگھ (50) ساکن چھاتی عام کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی گئی۔ اس نے بتایا کہ کچھ دن پہلے اس کے بیل کا شکار شیر نے کیا تھا۔ اس کے بعد اس نے بیل کی لاش میں کیڑے مار دوا (یوریا) ڈال دی، جس سے زہریلا گوشت کھانے سے شیر کی موت ہو گئی۔ ملزم نے دیگر افراد کے ساتھ مل کر شیر کی لاش کو زمین میں دفن کر دیا تھا۔ محکمہ جنگلات نے مرکزی ملزم ادے سنگھ کے ساتھ بشن لال، منوہر سنگھ اور کیلال کو بھی گرفتار کیا ہے۔ تمام ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ شیر کی آخری رسومات جنگلات کے افسران کی موجودگی میں ضابطے کے مطابق ادا کی گئیں۔ ادھر، جنگلی حیات کے کارکنوں نے اس واقعے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شیر کی مناسب مانیٹرنگ اور گاوں والوں میں بیداری کی کمی کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔ اگر معاوضہ اسکیم کے بارے میں معلومات ہوتی، تو ممکنہ طور پر مویشی کی لاش میں زہر نہ ڈالا جاتا۔ ساتھ ہی، واقعے سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز شیئر نہ کیے جانے پر بھی شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن