حزب اختلاف کے رہنما امنگ سنگھار نے ریاست کے حادثات اور معاوضہ پالیسی پر حکومت کو گھیرا
حزب اختلاف کے رہنما امنگ سنگھار نے ریاست کے حادثات اور معاوضہ پالیسی پر حکومت کو گھیرا بھوپال، 28 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اسمبلی کے حزب اختلاف کے رہنما امنگ سنگھار نے ہفتہ کو اپنی سرکاری رہائش گاہ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریاست میں بڑھتے
حزب اختلاف رہنما امنگ سنگھار


حزب اختلاف کے رہنما امنگ سنگھار نے ریاست کے حادثات اور معاوضہ پالیسی پر حکومت کو گھیرا

بھوپال، 28 مارچ (ہ س)۔

مدھیہ پردیش اسمبلی کے حزب اختلاف کے رہنما امنگ سنگھار نے ہفتہ کو اپنی سرکاری رہائش گاہ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریاست میں بڑھتے ہوئے حادثات، انتظامی لاپرواہی اور معاوضہ کی پالیسیوں میں امتیازکو سنگین چیلنج قراردیا۔ انہوں نے ریاست اور مرکزی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے بڑھتے ہوئے حادثات اور چھندواڑہ حادثے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک اور ریاست میں موجودہ صورتحال ’ایمرجنسی‘ جیسی ہو گئی ہے۔ سنگھار نے چھندواڑہ بس حادثے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ حادثہ وزیراعلیٰ کے جلسے سے لوٹ رہی بس میں ہوا، جس میں 10 افراد کی موت اور تقریباً 40 لوگ زخمی ہوئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اور انتظامیہ نے جلسے میں ہجوم جمع کرنے کے لیے سرکاری مشینری کا غلط استعمال کیا۔ ’’عوام کی حفاظت بھگوان کے بھروسے چھوڑ دینا تشویشناک اور قابلِ مذمت ہے۔‘‘ سنگھار نے بتایا کہ کانگریس قانون ساز پارٹی متوفین کے خاندانوں کو 50,000 روپے کی مالی مدد دے گی۔ حزب اختلاف رہنما نے ریاست کی معاوضہ پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پچھلے واقعات میں الگ الگ معاوضہ کی رقم دی گئی ہے۔ بھاگیرتھ پورہ حادثے میں 2 لاکھ دیے جاتے ہیں، کہیں اور 1 لاکھ۔ حکومت کے پاس کوئی ٹھوس ’یونیفارم پالیسی‘ کیوں نہیں ہے؟

بھاگیرتھ پورہ آلودہ پانی کا واقعہ – 2 لاکھ روپے

چھندواڑہ کف سیرپ کا واقعہ – 4 لاکھ روپے

ایم وائی اسپتال چوہا کانڈ – 5 لاکھ روپے

چھندواڑہ بس حادثہ – 8 لاکھ روپے (ابتدا میں صرف 4 لاکھ روپے کا اعلان)

انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ متوفیان کے خاندانوں کو معاوضہ حاصل کرنے کے لیے محکموں کے چکر لگانے پڑتے ہیں، جبکہ حکومت نے صنعت کاروں کے لیے ’سنگل ونڈو سسٹم‘ بنا دیا ہے کہ انہیں زمین سے لے کر تمام این او سی اور سہولیات مل جائیں گی۔ دوسری طرف، اگر کسی غریب کی سرکاری سسٹم کی خامی کی وجہ سے موت ہوتی ہے تو اسے معاوضے کے لیے دفتروں میں بھٹکنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’غریبوں کے لیے بھی 24 گھنٹے میں امدادی رقم کا انتظام ہونا چاہیے۔‘‘

سنگھار نے ایل پی جی کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں تقریباً 1.75 کروڑ خاندان گیس کنکشن پر منحصر ہیں، جبکہ گزشتہ 20 دنوں سے سلنڈر کی شدید کمی سے چھوٹی صنعتیں، ہوٹل اور ریسٹورنٹ متاثر ہو رہے ہیں۔ اجولا یوجنا کے تحت 88 لاکھ مستفیدین ہیں، لیکن آج بھی سلنڈر دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر ایران-امریکہ کشیدگی کی وجہ سے تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہوئی تو مدھیہ پردیش میں عوام کو شدید بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سنگھار نے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 5 سالوں میں مدھیہ پردیش میں 65,000 حادثات ہوئے ہیں۔ صرف 2024 میں اب تک 14,791 اموات ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں انتظامی دلچسپی صرف ٹینڈر اور کمیشن والے کاموں میں رہتی ہے۔ ’’حکومت عوام کی جان اور روزمرہ کی ضروریات کے تئیں حساس نہیں ہے۔‘‘

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande