
نئی دہلی، 26 مارچ (ہ س)۔ اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) نے جمعرات کو جاری کردہ اپنی رپورٹ میں رواں مالی سال 2025-26 میں ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 7.6 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔ تاہم، او ای سی ڈی نے اگلے مالی سال 2026-27 میں ملک کی اقتصادی ترقی کی شرح 6.1 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔
او ای سی ڈی نے اپنی عبوری رپورٹ میں آگاہ کیا ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازع کا براہ راست اثر عالمی معیشت پر پڑے گا۔ رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی میں رکاوٹ اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے پوری دنیا میں توانائی اور کھاد جیسی ضروری اشیاءکی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔
او ای سی ڈی کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے درآمدی محصولات میں کمی سے ہندوستان کی ترقی میں مدد ملے گی۔ تاہم گیس کی قلت کی وجہ سے کچھ پیداواری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور حکومتی مالی امداد میں کمی کی وجہ سے آنے والے برسوں میں ترقی کی رفتار قدرے سست ہو سکتی ہے۔
افراط زر کے محاذ پر، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے ہندوستان میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق آئندہ مالی سال 2026-27 میں مہنگائی کی شرح 5.1 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بڑھتی ہوئی مہنگائی کو روکنے کے لیے ہندوستان مالی سال 2026-27 کی دوسری سہ ماہی میں اپنی شرح سود میں عارضی طور پر اضافہ کر سکتا ہے۔ عالمی سطح پر،او ای سی ڈی نے 2026 میں دنیا کی اقتصادی ترقی کی شرح 2.9 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔
قابل غور ہے کہ آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ (او ای سی ڈی) 38 ترقی یافتہ ممالک کا بین الحکومتی فورم ہے۔ 1961 میں قائم کیا گیا، اس کا صدر دفترفرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہے۔ او ای سی ڈی بہتر پالیسیوں کے ذریعے عالمی اقتصادی ترقی، تجارت، استحکام اور معیار زندگی کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ یہ رکن ممالک کے لیے تجربات کا اشتراک کرنے کے لیے علمی مرکز کے طور پر کام کرتا ہے۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد