
حیدرآباد،25 ۔ مارچ (ہ س) ۔
عوام کے لیے ایک بڑی راحت کی خبر یہ ھیکہ، تلنگانہ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ تلنگانہ میں ایندھن کی کوئی قلت نہیں ہے اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیاپر پھیلنے والی غلط اور گمراہ کن خبروں کی بنیاد پر پیانک بائنگ سے گریز کریں۔25 مارچ 2026 کو جاری کردہ ایک پریس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ایندھن کی قلت سے متعلق افواہوں کی وجہ سے لوگ بڑی تعداد میں پیٹرول پمپس کا رخ کر رہے ہیں اور غیر ضروری طور پر اپنی گاڑیوں کے ٹینک بھر رہے ہیں، جس کے باعث کچھ مقامات پر وقتی دباؤ پیدا ہوا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق پیانک بائنگ کی وجہ سے ایندھن کی فروخت معمول کے مقابلے میں 2.5 سے 3 گنا تک بڑھ گئی ہے، جس کے نتیجے میں بعض ریٹیل آؤٹ لیٹس پر عارضی طور پر اسٹاک ختم ہونے جیسی صورتحال پیدا ہوئی، تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تلنگانہ میں ایندھن کی کوئی حقیقی کمی ہے۔ایسوسی ایشن نے عوام کو یقین دلایا کہ ایندھن کی کوئی قلت نہیں ہے اور ایچ پی سی ایل، آئی او سی ایل اور بی پی سی ایل جیسی بڑی کمپنیوں کے پاس مناسب مقدار میں اسٹاک موجود ہے، جبکہ سپلائی چین مکمل طور پر معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔ یہ وضاحت آن لائن پھیلنے والی غلط معلومات کا مقابلہ کرنے کے لیے جاری کی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ہی ایک اہم حفاظتی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول یا ڈیزل کو کین یا دیگر برتنوں میں ذخیرہ کرنا پی ای ایس او قوانین کے خلاف ہے اور یہ سنگین حادثات، خاص طور پرآگ لگنے کے خطرات کا سبب بن سکتاہے، اس لیے یہ طریقہ ہرگز محفوظ یا منظور شدہ نہیں ہے۔عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، غیر ضروری پیانک بائنگ سے بچیں، غیر مجاز کنٹینرز میں ایندھن ذخیرہ نہ کریں، اپنی معمول کی ضرورت کے مطابق ہی ایندھن خریدیں اور جھوٹی خبروں پر یقین نہ کریں اور نہ ہی انہیں پھیلائیں۔ایسوسی ایشن نے آخر میں ایک بار پھر زور دیاکہ تلنگانہ میں ایندھن کی کوئی قلت نہیں ہے اور موجودہ صورتحال صرف افواہوں کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ پرسکون رہیں، ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور صرف مستند معلومات پر ہی بھروسہ کریں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق