ٹی بی کے خاتمے کے دن پر 97 گرام پردھانوں کو اعزاز، 100 روزہ خصوصی مہم کا آغاز
ٹی بی کے خاتمے کے دن پر 97 گرام پردھانوں کو اعزاز، 100 روزہ خصوصی مہم کا آغاز علی گڑھ، 25 مارچ (ہ س)۔ ضلع پنچایت کی معزز چیئرپرسن محترمہ وجئے سنگھ اور ضلع مجسٹریٹ سنجیو رنجن کی موجودگی میں کلکٹریٹ آڈیٹوریم میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران ٹی بی کے
ٹی بی مکت بھارت


ٹی بی کے خاتمے کے دن پر 97 گرام پردھانوں کو اعزاز، 100 روزہ خصوصی مہم کا آغاز

علی گڑھ، 25 مارچ (ہ س)۔ ضلع پنچایت کی معزز چیئرپرسن محترمہ وجئے سنگھ اور ضلع مجسٹریٹ سنجیو رنجن کی موجودگی میں کلکٹریٹ آڈیٹوریم میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران ٹی بی کے خاتمے کے لیے نمایاں کام کرنے والے 97 گرام پردھانوں کو اعزاز سے نوازا گیا۔ ان میں سے تین گرام پنچایتیں ایسی ہیں جو مسلسل تین برسوں سے ٹی بی سے پاک ہیں۔

اس موقع پر 100 دن کی خصوصی مہم کا باقاعدہ آغاز بھی کیا گیا۔ ضلع کی گرام پنچایتیں لُہارا، چکور اور تُوامئی ‘گولڈ کیٹیگری’ میں شامل ہیں، جو مسلسل تین سال سے ٹی بی سے پاک ہیں۔ اس کے علاوہ 42 گرام پنچایتیں دو سال سے اور 52 گرام پنچایتیں ایک سال سے ٹی بی سے پاک ہیں۔ وزیراعظم ٹی بی مُکت بھارت مہم کے پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد دوسرے مرحلے کے تحت 100 روزہ خصوصی مہم شروع کی گئی ہے، جس میں چھوٹے ہوئے علاقوں اور زیادہ خطرے والی آبادی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

ضلع پنچایت کی چیئرپرسن محترمہ وجئے سنگھ نے کہا کہ گرام پنچایتوں کو مضبوط بنانا ہی ملک کی مجموعی ترقی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ٹی بی کے مریضوں کو سماجی بے رخی کا سامنا کرنا پڑتا تھا، لیکن اب محکمہ صحت کی جانب سے گھر گھر جا کر جانچ اور علاج کی مؤثر سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے تمام گرام پردھانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کا آپ پر اعتماد ہی آپ کی کارکردگی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے آیوشمان بھارت یوجنا کے تحت 70 سال سے زیادہ عمر کے مستحق افراد کے گولڈن کارڈ بنانے میں تعاون کی اپیل بھی کی۔

ضلع مجسٹریٹ سنجیو رنجن نے کہا کہ محکمہ صحت محدود وسائل کے باوجود قابلِ تعریف کام کر رہا ہے۔ انہوں نے گرام پردھانوں کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے یقین ظاہر کیا کہ اگلے سال ضلع میں ٹی بی سے پاک گرام پنچایتوں کی تعداد 97 سے بڑھ کر 500 تک پہنچ سکتی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande