
جموں, 25 مارچ (ہ س)۔ جموں و کشمیر کی متعدد یونیورسٹیوں میں اساتذہ کی شدید قلت سامنے آئی ہے، جہاں تقریباً 40 فیصد تدریسی آسامیاں خالی پڑی ہیں، جس سے تعلیمی نظام متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔محکمہ اعلیٰ تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق ریاست کی 9 ریاستی اور 2 مرکزی یونیورسٹیوں میں 3300 سے زائد تدریسی آسامیاں منظور شدہ ہیں، تاہم صرف قریب 1900 اساتذہ ہی تعینات ہیں، جبکہ باقی آسامیاں خالی ہیں۔
جموں یونیورسٹی میں 442 کے مقابلے میں 252 اساتذہ موجود ہیں، جبکہ یونیورسٹی آف کشمیر میں 570 میں سے 373 اساتذہ تعینات ہیں۔ اسی طرح اسکواسٹ جموں اور اسکواسٹ کشمیر میں بھی بالترتیب 42 فیصد اور 21 فیصد آسامیاں خالی ہیں۔
دیگر اداروں میں بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری اور اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں اساتذہ کی کمی سب سے زیادہ دیکھی گئی، جہاں 60 فیصد سے زائد آسامیاں خالی ہیں۔
مرکزی یونیورسٹیوں میں صورتحال نسبتاً بہتر ہے، تاہم وہاں بھی مکمل عملہ دستیاب نہیں ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ان یونیورسٹیوں میں مجموعی طور پر 69 ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں، جس کے پیش نظر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اساتذہ کی کمی سے تعلیمی معیار، تحقیق اور طلبہ کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین تعلیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خالی آسامیوں کو جلد از جلد پُر کیا جائے تاکہ تعلیمی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر