حیدرآباد میں اے آئی لٹریسی پروگرام طلبہ کی بہترین کارکردگی
حیدرآباد،25 مارچ (ہ س)۔ ریاستی حکومت کے تحت چلنے والے تلنگانہ میناریٹی ریسیڈینشل ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹیوشنس سوسائٹی کے 2000 سے زائد طلبہ نے بھارت کے پہلے اسکولی اے آئی لٹریسی پروگرام کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کی۔ نا مپلی میں واقع ٹی ایم
حیدرآباد میں اے آئی لٹریسی پروگرام طلبہ کی بہترین کارکردگی


حیدرآباد،25 مارچ (ہ س)۔ ریاستی حکومت کے تحت چلنے والے تلنگانہ میناریٹی ریسیڈینشل ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹیوشنس سوسائٹی کے 2000 سے زائد طلبہ نے بھارت کے پہلے اسکولی اے آئی لٹریسی پروگرام کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کی۔ نا مپلی میں واقع ٹی ایم آر ای آئی ایس ہیڈ آفس میں منعقدہ اے آئی لٹریسی شوکیس پروگرام میں طلبہ نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے مختلف اے آئی پر مبنی ایپلی کیشنز اور ڈیجیٹل پروجیکٹس پیش کیے۔ یہ پروگرام سات اضلاع میں حیدرآباد یونائٹیڈ ویلفیر کے اشتراک سے منعقد کیا گیا، جبکہ (سنٹیفک) نے اسپانسر اور سوینفائی نے ٹریننگ پارٹنر کے طور پر حصہ لیا۔ اس کا مقصد طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی اور اس کے عملی استعمال سے روشناس کرانا تھا۔

طلبہ نے تعلیم، ماحولیات اور سماجی مسائل سے متعلق مختلف اے آئی پروجیکٹس پیش کیےامینہ (نہم جماعت) نے ایک کورس ایکسپلورر تیار کیا، جو طلبہ کو ان کی کارکردگی کے مطابق کورس اور کالج کے انتخاب میں مدد دیتا ہے۔سلیمہ نے اپنی تعلیمی زندگی پر مبنی ویب پلیٹ فارم تیار کیا۔ساتھ ہی پیرنٹ کنکٹ نامی پلیٹ فارم بنایا، جو والدین کی رہنمائی کے لیے ہے۔

مناسوی نے کچن ویسٹ سے ماحول دوست کھاد بنانے کا حل پیش کیا۔ فاطمہ نے وارم ہیریٹ ویب سائٹ کے ذریعے مستحق افراد کو کپڑے فراہم کرنے کا پلیٹ فارم بنایا۔ریاستی وزیر برائے اقلیتی بہبود محمد اظہرالدین نے طلبہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دل و جان سے اے آئی تخلیقیت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے طلبہ کو ٹیکنالوجی کو ذمہ داری سے استعمال کرنے اور سماجی فلاح کے لیے کام کرنے کی ترغیب دی۔

سیکریٹری ڈاکٹر بی شفیع اللہ نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی کی مہارت فراہم کرنا اور انہیں روزمرہ مسائل کے حل کے لیے تیار کرنا ہے۔ماہرین کے مطابق، 61 رضاکاروں کی مدد سے چلنے والے اس مختصر مدتی پروگرام نے طلبہ کو اپنے خیالات کو عملی شکل دینے کا موقع فراہم کیا۔ محدود ٹیکنالوجی علم رکھنے والے طلبہ بھی مکمل ایپلی کیشنز بنانے میں کامیاب رہے، جو اس پروگرام کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔پروگرام کے اختتام پر طلبہ میں اسناد اور یادگاری تحائف تقسیم کیے گئے، جبکہ طلبہ نے اے آئی ٹولز کے ذریعے ایک خصوصی نغمہ بھی پیش کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande