
امراوتی ، 25 مارچ (ہ س)۔ ریاست مہاراشٹر میں اساتذہ پر آن لائن نظام کے تحت بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں نے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں ذاتی موبائل فون کے استعمال کی شرط پر اساتذہ نے کھل کر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔مہاراشٹر ریاستی پرائمری ٹیچرس کمیٹی نے حکومت کے اس اقدام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی عملے پر اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جبکہ بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو ریاست گیر احتجاج شروع کیا جائے گا۔اساتذہ کے مطابق مختلف سرکاری اسکیموں کے تحت انہیں اپنے ذاتی موبائل میں متعدد ایپس انسٹال کر کے ڈیٹا اپ لوڈ کرنا پڑ رہا ہے۔ اس عمل میں گوگل ڈرائیو پر تصاویر ڈالنا، لنکس تیار کرنا اور 128 سوالات پر مشتمل معلومات کے ساتھ دستاویزات پی ڈی ایف شکل میں پیش کرنا شامل ہے، جس سے ان پر اضافی دباؤ بڑھ گیا ہے۔اساتذہ نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ان کے موبائل میں موجود ذاتی اور مالی معلومات کے باعث یہ طریقہ کار رازداری کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ مزید یہ کہ انٹرنیٹ اور دیگر اخراجات کا بوجھ بھی خود اساتذہ کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔تنظیم کے رہنماؤں ادے شندے، وجے کومبے اور راجن کورگاؤںکر نے واضح کیا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اساتذہ کے لیے ضروری تکنیکی سہولیات فراہم کرے، کیونکہ ذاتی وسائل کے استعمال پر زور دینا ناقابل قبول ہے۔ساتھ ہی تنظیم نے سوال اٹھایا کہ جب اسکولوں میں دستی ریکارڈ موجود ہے تو مکمل عمل کو آن لائن منتقل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ریاستی ترجمان راجیش ساورکر کے مطابق اس مسئلے پر جلد ریاست گیر تحریک شروع کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے